اجمل قصاب کا ایک اور ریمانڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں کے ملزم اجمل امیر قصاب کے مزید ریمانڈ کے لیے ایک بار پھر میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ بدھ کو ممبئی کرائم برانچ آئیں گے کیونکہ ممبئی پولیس اجمل قصاب کو کرائم برانچ لاک اپ سے باہر لانا نہیں چاہتی ہے۔ جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا نے اس سے پہلے گیارہ دسمبر کو عدالت سے اپیل کی تھی کہ اجمل کے معاملے کی سماعت کرائم برانچ لاک اپ میں ہی کی جائے۔ مجسٹریٹ این مانگلے سرکاری وکیل ایکناتھ دھمال کے ہمراہ کرائم برانچ لاک اپ آئے تھے اور مجسٹریٹ نے اجمل کو رنگ بھون کیس میں چوبیس نومبر تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔ رنگ بھون کیس میں اجمل پر اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے، ایڈیشنل پولیس کمشنر اشوک کامٹے، انکاؤنٹر کے ماہر پولیس انسپکٹر وجے سالسکر کے قتل کا الزام ہے۔ پولیس اب تک اجمل پر دو کیسوں میں پولیس ریمانڈ لے چکی ہے۔ پولیس کے مطابق اجمل پر چار کیس درج ہوئے ہیں ان میں ان پر قتل، اقدام قتل، اسلحہ قانون دھماکہ خیز اشیا کا قانون اور ملک کے خلاف جنگ جیسے سنگین الزامات کے تحتی کیس درج ہوئے ہیں۔ پولیس اب تک اجمل کی دو کیسوں میں حراست لے چکی ہے۔ پہلا کیس گرگام چوپاٹی کا تھا جس میں اجمل کا ساتھی ابو اسماعیل خان پولیس کی گولیوں کا شکار ہوا تھا۔ دوسرا کیس رنگ بھون کا تھا۔ اجمل پر سی ایس ٹی پر فائرنگ اور ہلاکتوں کا کیس ریلوے پولیس نے درج کیا ہے جبکہ پولیس ٹائمز آف انڈیا کی عمارت، میٹرو تھیٹر پر پولیس جیپ چرا کر بھاگنے اور سپیشل برانچ پر فائرنگ کے کیس کی سماعت ابھی باقی ہے۔ اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے حکومت نے لیگل ایڈ کاؤنسل کے ممبر وکیل دنیش موٹا کو نامزد کیا تھا لیکن انہوں نے اخلاقی بنیادوں پر یہ کیس لڑنے سے انکار کر دیا تھا۔اس کے بعد کوئی بھی وکیل سامنے نہیں آیا ہے اور جنہوں نے اجمل کے کیس کی پیروی کرنے کا ارادہ کیا ان کے گھروں پر مقامی علاقائی سیاسی جماعت شیوسینا کے ورکروں نے ہنگامہ کیا تھا۔جس کے بعد انہوں نے اپنا نام واپس لے لیا۔ اجمل نے پولیس حراست میں پاکستانی ہائی کمیشن کو ایک خط لکھ کر قانونی مدد کی اپیل کی ہے۔ یہ خط ہندوستان کے وزارت خارجہ امور محکمہ کے ذریعہ پاکستانی ہائی کمیشن کو دے دیا گیا ہے۔ چھبیس نومبر کو ممبئی پر دس حملہ آوروں نے حملہ کر دیا تھا جس میں سے نو حملہ آور ہلاک ہو گئے اور اجمل کو پولیس نے زندہ پکڑ لیا ہے۔ ان حملوں میں ایک سو ستر سے زیادہ افراد ہلاک اور تین سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں جناردھن اجمل کی پیروی کے لیے تیار15 December, 2008 | انڈیا ’اجمل کا پاکستانی ہائی کمیشن کو خط‘14 December, 2008 | انڈیا قصاب 24 دسمبر تک حراست میں 11 December, 2008 | انڈیا ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’اجمل میرا ہی بیٹا ہے‘12 December, 2008 | پاکستان فرید کوٹ میں غیر معمولی کیا؟05 December, 2008 | پاکستان ممبئی میں حملے اور پاکستان کافریدکوٹ30 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||