جناردھن اجمل کی پیروی کے لیے تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کے سابق ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پی جناردھن نے کہا ہے کہ اگر پاکستان ہائی کمیشنس ان سے کہے تو وہ ممبئی حملوں کے زندہ بچنے والے واحد حملہ آور اجمل عامر قصاب کا کیس عدالت میں لڑ سکتے ہیں۔ ممبئی کے قانونی حلقوں میں یہ معاملہ موضوع بحث بنا ہوا ہے کہ آخر اجمل کے لیے عدالت میں قانونی لڑائی کون لڑےگا کیونکہ ممبئی کی میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کورٹ بار کاؤنسل نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ کوئی بھی اجمل کا کیس نہیں لےگا۔ شہر کے دیگر وکلاء بھی اجمل کو قانونی مدد دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جناردھن نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران کہا کہ کسی بھی ملزم کو چاہے وہ کتنا ہی خونخوار کیوں نہ ہو ، قانونی مدد حاصل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ جناردھن کا کہنا تھا کہ اگر وہ اس ملک کا باشندہ ہوتا تو وہ خود اپنےطور پر یہ کیس لے سکتے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ اجمل کو یہ حق حاصل ہے کہ عدالت میں کوئی وکیل اس کا دفاع کرے۔ جناردھن کے مطابق اگر حکومت ان سے کہتی ہے تو وہ اجمل کا کیس لڑنے سے انکار نہیں کر سکتے کیونکہ یہ قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتے اور انہیں یہ بھی احساس ہے کہ ان کے اس فیصلہ سے وکلاء ناراض ہوں گے لیکن وہ زندگی بھر قانون کے تحفظ اور اس کے بالا دستی کی لڑائی لڑتے رہے اس لیے اس موقع پر وہ قانون شکنی کے مرتکب نہیں ہوں گے۔ جب شہر کے تمام وکلاء نے اجمل کے کیس کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا تو حکومت نے’لیگل ایڈ سیل‘ کے ممبر ایڈوکیٹ دنیش موٹا کو اجمل کا کیس لڑنے کے لیے منتخب کیا تھا۔ لیکن دنیش نے کیس لینے سے انکار کر دیا۔ دنیش کا کہنا تھا کہ یہ شہر ان کے لیے ان کے خاندان کی طرح ہے اور وہ کسی بھی حالت میں ایسے کسی شخص کا دفاع کیسے کرسکتے ہیں جسے انہوں نے لوگوں کو گولیوں سے بھونتے دیکھا ہو۔ دنیش کو یہ بھی خوف ہے کہ ان کے انکار سے ان کی ملازمت چھن سکتی ہے اور وکیل ہونے کا لائسنس بھی لیکن انہیں اس کا خوف نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے اس فیصلے کا ساتھ ان کی بیوی اور ان کی والدہ نے بھی دیا ہے۔ دنیش کےاس فیصلہ کو چیف جسٹس آف انڈیا کے جی بالا کرشنن نے’غیر مناسب ‘ قرار دیا تھا۔ ان خبروں کے بعد کہ شدت پسند اجمل نے پولیس تحویل میں ہی پاکستانی ہائی کمیشن کو اردو میں لکھےایک خط میں قانونی مدد کا مطالبہ کیا ہے،ہائی کمیشن نے ایسا خط ملنے کی تردید کی ہے۔ دریں اثناء سنیچر کے روز خبریں گزشت کرنے لگی تھیں کہ مافیا سرغنہ ابوسالم کا کیس لڑ چکے وکیل اشوک سروگی اجمل کا کیس لڑنے کی تیاری میں ہیں۔ سروگی کی اس خبر کے بعد مہاراشٹر کی علاقائی سیاسی جماعت شیوسینا کے ورکروں نے ملاڈ میں واقع سروگی کےگھر پر مظاہرہ کیا ہے۔ شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت کا کہنا تھا کہ جو بھی وکیل اجمل کا کیس لڑے گا وہ اس کی مخالفت کریں گے۔ ریاستی حقوق انسانی کمیشن اور ہائی کورٹ کے جج شتج ویاس کا کہنا تھا کہ عدالت میں ملزم کی پیروی کیے بغیر اسے سزا دیا جانا جمہوری اور قانونی اقدار کے خلاف ہے لیکن آپ کسی وکیل پر دباؤ بھی نہیں ڈال سکتے۔ ہندستانی قانون اور دستور کے مطابق کسی بھی غیر ملکی کو دستورکی دفعہ چودہ کے تحت قانون کے سامنے یکسانیت حاصل ہے۔ دستور کی دفعہ اکیس کے تحت اسے شخصی آزادی دی جانی چاہئے اور دفعہ بائیس کی شق ایک اور دو کے تحت ہر شخص کو عدالت میں وکیل کے ذریعہ نمائندگی کا حق حاصل ہے۔ | اسی بارے میں ’اجمل کا پاکستانی ہائی کمیشن کو خط‘14 December, 2008 | انڈیا ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’سب کا تعلق پاکستان سے‘09 December, 2008 | انڈیا گرفتار شدت پسند کا نارکو ٹیسٹ 05 December, 2008 | انڈیا بھارت میں ملا جلا ردِ عمل11 December, 2008 | انڈیا قصاب 24 دسمبر تک حراست میں 11 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||