ریاض مسرور بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
| | ’ہم لوگ بیس سال سے دو طرفہ تشدد میں تھے۔ ایک طرف کا تشدد تو تھم گیا، لیکن حکومت کا تشدد نہیں تھما‘ |
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں دو ہزار آٹھ کا سال سیاست اور عوامی مزاج میں حیران کُن تبدیلیوں کے لیے یاد رکھا جائے گا۔ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس کلدیپ کمار کھڈا کے مطابق سال دو ہزار آٹھ کے دوران ساڑھے آٹھ سو مسلح شدت پسند سرگرم تھے لیکن اس کے باوجود بیس سالہ مسلح شورش میں پہلی بار تشدد کا گراف انتہائی نچلی سطح تک پہنچ گیا۔ لیکن اسی سال گرما کے دوران امرناتھ یاترا اور یاترا بورڈ کو زمین کی منتقلی پر اُٹھے تنازعہ نے اس تحریک کو جنم دیا جس میں مقامی انسانی حقوں انجمنوں کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق تریسٹھ افراد ہلاک ہوئے اور ڈیڑھ ہزار افراد زخمی ہوئے۔ یہ سب کچھ تئیس جون سے لے کر یکم جولائی اور بعد ازاں گیارہ اگست سے لے کر پانچ دسمبر تک مظاہرین اور پولیس و نیم فوجی عملے کے درمیان متعدد تصادم آرائیوں کے دوران ہوا۔ بیس سالہ مسلح شورش کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ کشمیر میں ہند مخالف مظاہروں سے مسلح گروپوں نےاعلانیہ کنارہ کشی کر لی اور یہاں تک کہ متحدہ جہاد کونسل نے اپنے زیر زمین مسلح جنگجوؤں کو تاکید کی کہ وہ ہتھیاروں سمیت یا ہتھیاروں کے بغیر ان مظاہروں میں شرکت نہ کریں۔ اس تحریک کے دوران حکومتی فورسز نے جہاں علیحدگی پسند قیادت کو گھروں اور جیلوں میں نظربند کردیا وہیں کبھی اعلانیہ اور اکثر اوقات غیر اعلانیہ کرفیو نے پوری آبادی کو کئی ہفتوں تک محصور کر کے رکھ دیا۔ موبائل فون پر پیغام رسانی کا سلسلہ روک دیا گیا اور اخبارات و ٹی وی چینلز پر پابندی عائد کردی گئی۔ مقامی سماجی کارکن عبدالحمید راتھر کا کہنا ہے ’ہندوستان کو کشمیر میں تشدد کا مسئلہ تھا۔ لیکن دو ہزار آٹھ کی اس تحریک نے تو ملیٹینسی کو غیر متعلق کردیا۔ یہ بہت اچھی بات ہے، لیکن عام آدمی کے لئے تشدد صرف ملیٹینٹ کی بندوق نہیں ہے۔ اس بار بندوق نہیں تھی لیکن دیکھئے کتنا جانی نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ لوگوں کو خوب مار پڑی۔ گھروں، دوکانوں اور گاڑیوں پر نیم فوجی عملے نے قیامت ڈھائی۔ مطلب یہ کہ ہم لوگ بیس سال سے دو طرفہ تشدد میں تھے۔ ایک طرف کا تشدد تو تھم گیا، لیکن حکومت کا تشدد نہیں تھما۔‘  |  ہندوستان کو کشمیر میں تشدد کا مسئلہ تھا۔ لیکن دو ہزار آٹھ کی اس تحریک نے تو ملیٹینسی کو غیر متعلق کردیا۔ یہ بہت اچھی بات ہے، لیکن عام آدمی کے لئے تشدد صرف ملیٹینٹ کی بندوق نہیں ہے۔  عبدالحمید راتھر |
اس صورتحال کے پس منظر میں بعض مبصرین سال دو ہزار آٹھ کو تشدد اور عدم تشدد کے درمیان مقابلے کا سال بھی کہنے لگے ہیں اور دانشور حلقوں میں اس سوال پر بحث چھڑ گئی ہے کہ اس مقابلہ میں کس کی جیت ہوئی۔ قلمکار اور مُبصر طارق علی میر کہتے ہیں ’نوے کی دہائی میں ہم نے دیکھا کہ ملیٹینٹ کارروائی کرتے تھے، کبھی کبھی لوگوں کو بھی ستاتے تھے۔ اور پھر سیکورٹی اور کاؤنٹر انسرجنسی کے نام پر یہاں کیا کچھ نہیں ہوا۔ لیکن اب کی بار ملیٹینسی نہیں ہے لیکن پھر بھی زیادتیاں بہت ہوئیں۔ پتھر کا جواب گولی سے ملا۔ اخلاقی طور بات کریں تو لگتا ہے کہ لوگوں کی عدم تشدد پالیسی کو فتح ہوئی۔ لیکن الیکشن بھی تو ہوئے اور اس میں باسٹھ فیصد لوگوں نے ووٹ بھی تو ڈالے۔ یہ پہلو دیکھیں تو پھر تشدد کی جیت ہوتی ہے۔حالانکہ ہم نے کسی بھی پولیس والے یا فوجی کو ووٹروں کے ساتھ زبردستی کرتے نہیں دیکھا۔ یہ بہت کٹھن سوال ہے‘۔ دو ہزار آٹھ کا سال سیاسی اور سماجی پہلوؤں کے اعتبار سے تبدیلی کا بھی سال رہا۔ کشمیر کی مزاحمتی تحریک سے بندوق کا تقریباً بے دخل ہوجانا، ہندنواز علاقائی جماعتوں اور سیاستکاروں کا نیم علیحدگی پسندانہ لب و لہجہ، لوگوں میں اس سوچ کا پیدا ہونا کہ الیکشن اور آزادی دو الگ الگ امور ہیں اور ووٹ ڈالنے سے کوئی آزادی کا دشمن نہیں بن جاتا اس کی چند مثالیں ہیں۔  | | | ’اخلاقی طور بات کریں تو لگتا ہے کہ لوگوں کی عدم تشدد پالیسی کو فتح ہوئی‘ |
حساس عوامی حلقے لوگوں کی سوچ اور ہندنواز سیاست کے انداز بدل جانے کو کافی اہمیت دیتے ہیں۔ نوجوان فن کار مسعود منتظر کہتے ہیں ’پہلے تو ہم خانوں میں بٹے تھے۔ حریت کانفرنس کے دو دھڑے تھے اور دوسری طرف الیکشن نواز سیاست تھی۔ اس سال جو ایجی ٹیشن ہوئی اس کے فوراً بعد حریت دھڑے متحد ہوگئے۔ میرواعظ اور گیلانی ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔ ہندنواز نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی میں بھی بدلاؤ آیا۔ محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ لوگوں کو خودحکمرانی دی جائے۔ عمرعبداللہ کہتے ہیں خود مختاری دی جائے۔ دونوں دراصل مقامی حکمرانی میں نئی دلّی کا کردار محدود کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ تو آدھے علیحدگی پسند بن گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں پر اس بدلاؤ کا اثر پڑا اور انہوں نے ووٹ ڈالے۔‘ |