حکومت نے دھوکہ دیا ہے:بایاں بازو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہند امریکہ جوہری معاہدے کی امریکی سینیٹ سے منظوری ملنے پر ہندوستان میں بائیں بازو کی جماعت نے کہا ہے کہ حکومت ملک کو دھوکہ دے رہی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان جوہری عدم پھیلاؤ کے جال میں پھنس رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے سبب ملک کےمفاد کو خطرہ ہے۔ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی کے رہنما پرکاش کارت کا کہنا تھا ’حکومت خود کو امریکہ کے حوالے کر رہی ہےاور قومی مفاد کو دھوکہ دے رہی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے خلاف ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ چار اکتوبر کو جب امریکی وزير خارجہ کونڈا لیزا رائس ہندوستان آئیں گی تو ان کی جماعت اس دن یوم سیاہ منائے گی۔ وہیں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان جوہری عدم توسیع کے جال میں پھنس رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہمنا راجیو پرتاپ سنگھ روڈی نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا ’ہندوستان کی حکومت جان بوجھ کر اس جال میں پھنس گئی ہے، اس کے پاس اس سے باہر آنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، ہم نے ایک طرح سے جوہری عدم توسیع کے معاہدے کو تسلیم کر لیا ہے جو ملک کی خودمختاری اور جوہری آزادی کے لیے سمجھوتہ ہے۔‘ کانگریس نے اس معاہدے کو تاریخی قرار دیا ہے۔ کانگریس کے رہنما کپل سبل نے کہا’اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو بصیرت افروز سوچ اور اس قدم کے لیے یاد کیا جائے گا۔ ہندوستان کو توانئی کی ضرورت ہے اور ہم عوام کو بتائیں گے کہ اس کے بعد بجلی کی ضرورت کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔‘ |
اسی بارے میں انڈیا اور فرانس کا جوہری معاہدہ30 September, 2008 | انڈیا انڈیا امریکہ جوہری معاہدہ منظور29 September, 2008 | انڈیا منموہن سنگھ فرانس کے دورے پر28 September, 2008 | انڈیا ’تمام مسائل کا حل بات چیت سے‘26 September, 2008 | انڈیا ہند امریکہ معاہدے کے حق میں ووٹ24 September, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||