ریاض مسرور بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
| | ریاست میں حکومت بنانے کے لیے فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹِک پارٹی کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے |
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے رجحانات اور نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی ابھی ہو رہی ہے لیکن ابتدائی رجحانات کے مطابق نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹِک پارٹی کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے جبکہ جموں میں بی جے پی آگے بڑھ رہی ہے۔ مفتی محمد سعید کی پیپلز ڈیموکریٹِک پارٹی یعنی پی ڈی پی کو وادی میں کم از کم چار سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے جبکہ فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کو جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں غلبہ حاصل ہے۔ جموں میں حالیہ احتجاجی تحریک کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی کو سیاسی فائدہ ملنے کی وجہ سے وہاں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو دونوں کو نقصان ہونے کا امکان ہے۔ ابھی تک ستاسی میں سے کم از کم پینسٹھ سیٹوں کے رجحانات موصول ہوئے ہیں جن میں سے نیشنل کانفرنس نے ایک سیٹ جیت لی ہے، جبکہ دیگر پچیس پر وہ اپنے حریفوں سے آگے جا رہی ہے۔  | | | پی ڈی پی کے رہنما مفتی محمد سعید | اسی طرح پی ڈی پی بھی اپنے روایتی گڑھ جنوبی کشمیر کے علاوہ شمالی کشمیر میں بھی کچھ سیٹوں پر آگے جا رہی ہے اور اس طرح اسے کم از کم سترہ سیٹوں پر لیڈ حاصل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کانگریس کو جموں اور کشمیر دونوں خطوں میں کم از کم اٹھارہ سیٹوں پر لیڈ حاصل ہے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر عمرعبداللہ دوپہر کو نئی دلّی سے براہ راست سرینگر آئے اور یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی کے ساتھ کسی سیاسی اتحاد کے امکان کو مسترد کر دیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو کم و بیش یکساں تعداد میں سیٹیں ملتی ہیں تو دونوں کی کوشش رہے گی کہ وہ کانگریس کو اقتدار میں شراکت کے لئے آمادہ کرے۔ واضح رہے کہ ستاسی رُکنی کشمیر اسمبلی میں حکومت بنانے کے لئے کسی پارٹی یا کسی سیاسی اتحاد کے پاس کم از کم چوالیس ممبران کا ہونا ضروری ہے۔ اس دوران کانگریس نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ وہ صرف اسی پارٹی کے ساتھ شراکت اقتدار کا معاہدہ کرے گی جس کے پاس سب سے زیادہ سیٹیں ہوں۔ |