عسکریت سے فوج کی جاسوسی تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کلگام کے اخوان محلے سے گزرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ اخوان محلے اور چمبل گھاٹی میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں لوگوں کو لوُٹتے ہیں تشدد کرتے ہیں اور شریف عوام کی نیند حرام کرتے ہیں۔‘ کلگام کے بزرگ علی محمد یہ کہتے کہتے آْبدیدہ ہوگئے۔ ان کے جوان بیٹے کو اخوان محلے کے بندوق برداروں نے گرفتار کر کے بھارتی فوج کے حوالے کیا تھا اور دوسرے دن بیٹے کی سڑک پر لاش ملی تھی۔ علی محمد کہتے ہیں ’ہمارا علاقہ پیر و مرشد کا مسکن تھا مگر عسکری تحریک کے دوران بھارتی فوج نےاس کو تفتیشی مرکز میں تبدیل کیا۔ بدقسمتی سے ہمارے بچوں پر تشدد کرنے میں وہ عسکریت پسند پیش پیش رہے جنہوں نے ہتھیار پھینک کر اننت ناگ میں اودھم مچادیا ہے۔‘ آزادی کے حق میں لڑنے والے کلگام اور آس پاس کے علاقوں کے بیشتر عسکریت پسند نوجوان بھارتی فوج کے جاسوس بن گئے اور تحریک مخالف کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ کلگام کی دلچسپ تاریخ رہی ہے۔ جہاں اس علاقے میں کیمونزم کا خاصا اثر رہا ہے وہیں یہ جماعت اسلامی کا مضبوط گڑھ بھی سمجھا جاتا رہا ہے۔ جب نوے کے اوائل میں عسکری تحریک شروع ہوئی تو علاقے کے بیشتر نوجوان تحریک میں کود پڑے اور شدید ترین عسکری کارروائیوں کی چھاپ پیدا کی۔ حتٰی کہ یہ سمجھا جانے لگا کہ اس علاقے کو حقیقت میں آزادی حاصل ہوگئی ہے۔ پھر بھارت کے خفیہ اداروں اور فوج نے چند سالوں میں اپنی حکمت عملی سے نہ صرف علاقے کی تاریخ بدل دی بلکہ یہاں کا نام سنتے ہی کشمیر میں خوف طاری ہونے لگا۔ جو کل تک آزادی کے لیے لڑ رہے تھے وہ بھارتی فوج کے جاسوس بن گۓ۔ کریک ڈاون سے لے کر تلاشی، گرفتاریوں اور تفتیش تک کے سارے کام ان نوجوانوں نے سنبھالے۔ بچے کھُچے عسکریت پسند اپنے خاندانوں کے ساتھ یہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے اور خود ہتھیار ڈالنے والے نوجوانوں کے خاندانوں کو بدنامی کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ کر نئی کالونی ’اخوان محلہ‘ تعمیر کرنی پڑی جس کا پورا خرچہ بھارتی اداروں نے برداشت کیا۔ اخوان محلہ پر اب بھی آس پاس کے مکین لوٹ مار، تشدد اور خواتین کے ساتھ دست درازی کے درجنوں الزام عائد کرتے ہیں مگر لوگوں کے مطابق ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ عوام کے بڑے طبقے نے اس محلہ کو ’ان ٹچ ایبل‘ قرار دیا ہے۔ سابق عسکریت پسند اور اخوانی شکیل احمد ان الزامات کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ان کے گھر والے بھارتی فوج کے تشدد سے تنگ آگئے، بھوکے رہنا اور سونا ان کا اوڑھنا بچھونا بن گیا تووہ دباؤ کے تحت تحریک چھوڑ کر بھارتی فوج کے تنخواہ دار جاسوس بن گئے۔ ’پہلے بھی ہماری زندگی کا ریموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں تھا پھر یہ کسی اور کے ہاتھ میں آگیا۔‘ اخوان محلہ میں انتخابی مہم باقی علاقوں سے مختلف رہی اور امیدوار بھی بھارت کی ایسی جماعتوں سے کھڑے ہوئے ہیں جن کا ابھی تک یہاں نام بھی سنا نہیں گیا تھا۔
یہ شائد کشمیر کا واحد علاقہ ہے جہاں بھارت کے حق میں نعرے لگتے ہیں جس کی جرات بھارت نواز سیاسی جماعتیں بھی نہیں کر پارہی ہیں۔ مگر پینتھرس پارٹی کی چھبیس سالہ انتخابی امیدوار رفیقہ کہتی ہیں کہ وہ کشمیر کو بھارت کا مستقل علاقہ بنانے پر اپنی پوری توجہ مرکوز کریں گی اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہو گئیں۔ رفیقہ جب یہ کہہ رہی تھیں تو اس وقت بھارتی فوج کے مسلح جوان ان کے گھر اور اخوان محلے کے آس پاس چلنے والے لوگوں پر نظر رکھے ہوئے تھے جو حقارت بھری نگاہوں سے ان سب کی طرف دیکھ رہے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||