نعیمہ احمد مہجور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی |  |
 | | | دلچسپ بات یہ ہے کہ امیدواروں میں کئی خواتین ہیں جو سماج وادی پارٹی سے لے کر شو سینا تک کے لیے چناؤ لڑ رہی ہیں |
کشمیر کے انتخابات بھارت کی دوسری ریاستوں سے ہمیشہ مختلف رہے ہیں تقریباً دس سال قبل تک انتخابی معرکہ صرف نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے درمیان ہواکرتا تھا اور بیشتر مرتبہ مقامی پارٹی ہونے کے باعث نیشنل کانفرنس ہی کامیاب ہوتی تھی کیونکہ کانگریس کو اکثر کشمیری مرکزی حکومت کی پارٹی سمجھ کر ٹھکراتے رہے ہیں۔ پھر جب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سیاسی میدان میں کود پڑی تو نیشنل کانفرنس کو اپنی مظبوط اور محفوظ نشستیں بچانا مشکل ہوگیا۔ کانگریس کے ساتھ کئی مرتبہ اتحاد کرنے کے باوجود نیشنل کانفرنس کانگریس کی سخت دشمن رہی اور کشمیر میں بگڑتی ہوئی سیاسی صورت حال کے لیے بیشتر مبصرین کانگریس کو ہی ذمہ دار قرار دیتے آرہے ہیں جس نے شیخ عبداللہ سے لے کر موجودہ لیڈرشپ تک سبھی رہنماؤں سے کیے گئے تمام وعدے فراموش کر دیے۔ اس بار کوئی بڑی سیاسی جماعت انتخابات کے لیے تیار نہیں تھی جس کی سب سے بڑی وجہ امرناتھ شرائن بورڑ کا قضیہ اور اسکے بعد سے آزادی کی تحریک کا دوبارہ شروع ہونا تھا۔  | | | اب مقامی لوگ سیکورٹی اہلکاروں کے سائے میں امیدوار بن کر انتخابی عمل میں شامل ہوگئے ہیں |
بیشترسیاست دان کافی عرصے تک مخمصے میں رہے کہ کیا انہیں موجودہ شورش کے ہوتے ہوئے بحثیت امیدوار آگے آنا چاہیے یا نہیں۔ کاغذات نامزدگی داخل کرنے تک کسی کو انتخابی عمل کے ہونے پر یقین نہیں تھا۔ مگر چند ہفتوں کے بعد ہی زمینی حقیقت تیزی سے بدل گئی۔ انتخابی امیدواروں کی نہ صرف بڑی تعداد سامنے آئی بلکہ ایسی سیاسی جماعتوں کے دفاتر یہاں کھلنے لگے جن کا دوسری ریاستوں میں کوئی خاص اثر نہیں۔ کانگریس کا نام لینے پر یہاں لوگوں کو بھارت نواز ہونے کے شک پرحقارت سے دیکھا جاتا تھا مگر اب بھارتیہ جنتا پارٹی، لوک جن شکتی سمپورن، بھارت کرانتی، راشٹریہ دل وغیرہ کئ پارٹیوں کے دفاتر ضلعوں میں قائم ہوگئے ہیں اور مقامی لوگ سیکورٹی اہلکاروں کے سائے میں امیدوار بن کر انتخابی عمل میں شامل ہوگئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان امیدواروں میں کئی خواتین ہیں جو سماج وادی پارٹی سے لے کر شو سینا تک کے لیے چناؤ لڑ رہی ہیں۔ عام تاثر ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت اور اس کے اداروں نے کافی سرمایہ خرچ کرکے امیدواروں کو کھڑا کیا ہے حالانکہ پی ڈی پی کے لیے بھی پہلے پہل ایسا ہی الزام عائد کیا جاتا تھا مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلی بار کشمیر کی انتخابی تاریخ میں امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔ جب کشمیر میں بیس سال قبل پانچ نوجوانوں پر مشتمل ’حاجی گروپ‘ نےعسکری تحریک کا آغاز کیا تو چند ماہ میں نوجوانوں کی تقریباً نصف آْبادی بندوق حاصل کرنے کی دوڑ میں چل پڑی۔ یہ جذبہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتا گیا جب آزادی کا سورج دیکھنے والے بادلوں کی اوٹ میں چھپ گئے۔ ہوسکتا ہے کہ کشمیر کی سیاسی تاریخ میں یہ نیا موڑ آیا ہو۔ کشمیر کے بدلتے مزاج میں یہ کتنی دیر ٹھراؤ لائیگا ابھی کہنا بہت مشکل ہے۔ |