کونڈولیزا رائس دلی پہنچ گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس بھارت کے دورے پر نئی دلی پہنچ گئی ہیں۔ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اس دورے کے دوران ہند امریکہ جوہری معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گی، لیکن دِلی جاتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ابھی کچھ معاملات طے ہونا باقی ہیں اور ممکن ہے کہ اس دورے میں دستخط نہ ہو سکیں۔ امریکی کانگریس ہند امریکہ جوہری معاہدے کی منظوری دے چکی ہے اور مذکورہ معاہدہ سے امریکی تاجروں کو انڈیا کو جوہری ایندھن اور ٹیکنالوجی بیچنے کی اجازت مل جائے گی۔اس کے بدلے میں انڈیا کو اپنے غیر عسکری نوعیت کے جوہری ری ایکٹروں کے عالمی معائنے کی اجازت دینا ہوگی۔ معاہدے کے ساتھ ہی انڈیا پر سے وہ پابندیاں ختم ہو جائیں گی جو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے انڈیا پر عائد کی گئی تھیں۔
ناقدین کا کہنا انڈیا اور امریکہ کا معاہدہ ایران اور دیگر ممالک کے لیے اچھی مثال نہیں اور اس سے جنوبی ایشیا میں اسلحے کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے جوہری اسلحے کی عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔ امریکہ نے انیس سو چوہتر میں انڈیا کی طرف سے ایٹمی دھماکے کے بعد جوہری تعاون ختم کر دیا تھا۔ بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار پال رینالڈز کا کہنا ہے کہ بعض کی نظر میں، یہ معاہدہ نامساعد حالات میں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش ہے، جن میں عالمی جوہری نگران تنظیم آئی اے ای اے بھی شامل ہے کیونکہ اس سے انڈیا پہلے سے زیادہ سخت معائنوں کی زد میں آ جائے گا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اس سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی اہمیت کم ہوتی ہے کیونکہ انڈیا نے اس پر دستخط بھی نہیں کیے اور اس کے پاس جوہری ہتھیار بھی ہیں۔ |
اسی بارے میں حکومت نے دھوکہ دیا ہے:بایاں بازو02 October, 2008 | انڈیا انڈیا اور فرانس کا جوہری معاہدہ30 September, 2008 | انڈیا انڈیا امریکہ جوہری معاہدہ منظور29 September, 2008 | انڈیا منموہن سنگھ فرانس کے دورے پر28 September, 2008 | انڈیا ’تمام مسائل کا حل بات چیت سے‘26 September, 2008 | انڈیا ہند امریکہ معاہدے کے حق میں ووٹ24 September, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||