’پاکستان کوسبق ضروری مگر جنگ نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھبیس نومبر کی رات کوممبئی پر شدت پسندوں کا حملہ ہوا تھا اس سے نہ صرف ممبئی کا دل دہلایا بلکہ پورا ہندوستان دہل گیا۔ شدت پسندوں کے پاکستان سے تعلق ثابت ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تلخ بیان بازییاں جاری ہیں۔ ہندوستان کی حکومت کی طرف سے ’تمام آپشن کھلے‘ کے بیان کے جنگ کی باتیں کھلے عام شروع ہو گئی ہیں۔ لیکن ممبئی کے شہری کہتے ہیں کہ ’پاکستان کو سبق سکھانا بہت ضروری ہے لیکن جنگ کوئی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔‘ انکا کہنا ہے کہ بھارت کو عالی سطح پر بات چیت کے ذریعے پاکستان کو یہ بات سمجھانی ہوگی کہ پاکستان کو انڈیا کے امن میں خلل ڈالنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ بلاس پور سے تعلق رکھنے والے اور ممبئی میں کام کرنے والے شرد شرما کا کہنا ہےکہ پاکستان نے جو کیا ہے اس کے لیے اسے سبق سکھانا بہت ضروری ہے۔’ہمیں اگر شدت پسندی کو ختم کرنا ہے تو ہمیں پاکستان کو سبق سکھانا ہوگا۔ جیسا ممبئی میں ہوا کہیں بھی ہوسکتا ہے۔ کسی بھی شہر میں ہوسکتا ہے۔ ہندوستان کو پاکستان سے صحیح سے بات کرنی چاہیے۔‘ پیشے سے ڈاکٹر انجم قادری کام پر جانے کے لیےسی ایس ٹی سٹیشن سے روز ٹرین لیتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد انہیں ڈر ضرور لگتا ہے لیکن وہ یہ نہیں کہ سکتی کہ حملے پاکستان نے کیے ہیں۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کے ساتھ کسی طرح کی بھی جنگی کارروائی کرنا مسئلہ کا حل ہےتو ان کا کہنا تھا
حملوں کے بعد تاج محل ہوٹل کو دیکھنے آئے پرشانت سنگھ چوہان ممبئی میں ایک آئی ٹی فرم کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ انکا کہنا تھا "ہم کبھی بھی جنگ کے حق میں نہیں تھے۔ پاکستان نے ہم پر حملہ کرکے ہمیں مجبور کیا ہے۔ پاکستان انڈیا کے امن میں خلل ڈال کر ہمیں حملے کےلیے اکسا رہا ہے۔ ہم انڈین ہیں اور ہمیں اسکا فخر ہے۔ لیکن ہم یہ بات بھی مانتے ہیں کہ ہماری انٹلیجنس سروس کی ناکامی کی وجہ سے بھی اس طرح کا حملہ ہوا۔ پاکستان کے خلاف کاروائی کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے لیڈرز کو سبق سیھکنا ہوگا کہ ہم خطروں کو نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں۔ انوپما کا کہنا ہے " ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ سب مذہب ایک ہیں اور پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اس طرح کے حملوں کے بعد صرف دراڑیں ہی بڑھ رہی ہیں۔ ہمیں بات چیت کرکے مسئلے کا حل کرنا چاہیے۔ ہم سب ایک ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان بہت جدا نہیں ہیں۔ لیکن جنگ سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ 11 سالہ آدرش گھئی کا کہنا ہے کہ اب انہیں ممبئی میں ڈر لگتا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ حملہ کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ " پاکستان کو ہم نے تو کچھ نہیں کہا تھا۔ اس نے ہمارے اوپر حملہ کیوں کیا۔ اس نے ہم پر حملہ کیا ہے تو ہمیں بھی اسے ایک بار سبق تو سکھانا ہوگا۔‘ ممبئی کے لوگ حملوں کے بعد تھوڑے ڈرے ہوئے ضرور ہیں۔ شہر میں لوگ پہلے سے زیادہ الرٹ ہیں اور ممبئی حملوں کے متاثرہ علاقوں میں بھی سیکورٹی زیادہ دیکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کے خلاف کوئی جنگی کارروائی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں ’جنگ نہیں کارروائی چاہیے‘23 December, 2008 | انڈیا دنیا پاکستان پر دباؤ بڑھائے: مکرجی22 December, 2008 | انڈیا ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا ممبئی: سینکڑوں افراد زیرعلاج ہیں29 November, 2008 | انڈیا گنبد پر نگاہیں ٹکائے خبر کے انتظار میں28 November, 2008 | انڈیا ’ممبئی لہولہان، ہندوستان کا11/9 ‘28 November, 2008 | انڈیا ’یہ سب جلدی ختم ہو تاکہ ہم گھر جا سکیں‘28 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||