BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 January, 2009, 23:04 GMT 04:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہی وجہ ہے یا کوئی اور ۔۔۔

محمود علی درانی
آخر محمود علی درانی کو کس جرم کی سزا ملی ہے؟
قومی سلامتی کے امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر محمود علی درانی کی ’کھڑے کھڑے’ برطرفی کی وجہ اگرچہ سرکاری بیان میں واضح ہے لیکن کئی لوگوں کو اس سے تسلی نہیں ہوئی ہے۔

ایک مسلسل سیاسی بحران سے ہمیشہ گزرنے والے اس ملک میں جو دکھائی دیتا ہے اس پر اکثر اعتبار کم ہی کیا جاتا ہے۔ ہر کوئی پوچھتا پھر رہا ہے کہ آیا یہی وجہ تھی جو بتائی گئی یا پس منظر میں حالات و واقعات کچھ اور تھے۔

ماضی کے کئی بحرانوں کی طرح اس بحران سے متعلق بھی کئی سوالات سامنے آئے ہیں جو جواب طلب ہیں۔ کیا محمود درانی کا یہی جرم ثابت ہوا کہ انہوں نے وزیر اعظم کو اعتماد میں لیے بغیر اجمل قصاب کی پاکستانی شہریت کی مبینہ تصدیق میڈیا میں کر دی یا بات کچھ اور ہے؟ پھر آخر انہیں ایسی جلدی بھی کیا تھی؟ اس جدید مواصلات کے دور میں کیا وہ وزیر اعظم سے لاہور میں رابطہ نہیں کرسکتے تھے؟ انہیں کس چیز نے ایسا کرنے سے روکا؟

محمود درانی نے اس متنازعہ انٹرویو میں جو کہا وہ کوئی اتنی واضح تصدیق بھی نہیں تھی کہ اس پر اتنا ناراض ہوا جاتا۔ ان سے انٹرویو میں دریافت کیا گیا کہ آیا اجمل قصاب یا باقی حملہ آور پاکستان سے ہوسکتے ہیں تو جواب میں محمود درانی کا کہنا تھا: ’ہوسکتا ہے، ہوسکتا ہے۔ میں اتنا ہی فل الحال کہہ سکتا ہوں جبکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ میرے خیال میں یہ غالبا درست ہوگا کہ ۔۔۔ اجمل قصاب کے پاکستان سے روابط ہیں۔ لہذا کوئی اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ پاکستان کے ساتھ تعلق صفر تھا۔ کون کتنا ملوث ہے یہ ہمیں معلوم کرنا ہے۔‘

یہاں درانی بظاہر اجمل کے پاکستانی روابط کی بات کر رہے ہیں ناکہ ان کی شہریت کی۔

درانی کا دوش!
اجمل قصاب
 کیا محمود درانی کا یہی جرم ثابت ہوا کہ انہوں نے وزیر اعظم کو اعتماد میں لیے بغیر اجمل قصاب کی پاکستانی شہریت کی مبینہ تصدیق میڈیا میں کر دی یا بات کچھ اور ہے؟ پھر آخر انہیں ایسی جلدی بھی کیا تھی؟ اس جدید مواصلات کے دور میں کیا وہ وزیر اعظم سے لاہور میں رابطہ نہیں کرسکتے تھے؟ انہیں کس چیز نے ایسا کرنے سے روکا؟

محمود درانی کے ایک بھارتی ٹی وی چینل کے سامنے اجمل قصاب کی شہریت کے اعتراف سے چند گھنٹے قبل ہی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے بھارتی ہم منصب کے جارحانہ بیان کے جواب میں واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ پاکستان نے ممبئی حملوں کے بارے میں ازخود تحقیقات میں پیش رفت کی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ یہ پیش رفت کیا تھی۔

سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم اجمل قصاب کی شہریت کی تصدیق کا حوالہ دے رہے تھے یا کسی اور پیش رفت کی بات کر رہے تھے؟ وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے سامنے تمام حقائق رکھ دیں۔ وہ کون سی پیش رفت تھی جس کا ذکر وہ اس وقت کر رہے تھے؟ کیا وہ اس سے آگاہ تھے؟ اگر تھے تو پھر محمود درانی کو کس بات پر قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے؟

بعض ذرائع تو یہ تک کہہ رہا ہے کہ محمود درانی کو اس وجہ سے برطرف کیا گیا کیونکہ انہوں نے وزیر اعظم کو ایک بڑی خبر بریک کرنے کے موقع سے محروم کر دیا تھا۔ ’بریکنگ نیوز’ کے پاکستان میں کریز میں اگر وجہ یہی تھی تو بڑی بچگانہ تھی۔

محمود علی درانی کا امریکی اور بھارتی پس منظر بھی اس تمام صورتحال میں کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ حکومت پاکستان، فوج اور امریکہ کے درمیان رابطے کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ بعض کے خیال میں انہوں نے امریکی نواز اور بھارت کی جانب ’نرم’ رویہ اپنانے کی قیمت ادا کی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مرحومہ بےنظیر بھٹو نے امریکہ سے وعدہ کیا تھا کہ محمود علی درانی کو اقتدار میں آنے کے بعد بطور مشیر تعینات کریں گی۔ تاہم عام تاثر ہے کہ صدر زرداری ان کے کوئی اتنے زیادہ حامی نہیں تھے لیکن کوئی اور چارہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں قبول کرنا پڑا۔ موجودہ حکومت میں ایسے دو تین لوگ اور بھی ہیں جو مبصرین کے خیال میں اپنے ’ایجنڈا’ لے کر پیپلز پارٹی حکومت میں آئے ہیں۔ اب موقع ملتے ہی لگتا ہے انہوں نے ان میں سے ایک سے جان چھڑا لی ہے۔

سرکاری چھٹی ہونے کے باوجود اسلام آباد میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے۔ محمود علی درانی کی برطرفی کے تناظر میں اسے اہم قرار دیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانا تھا۔ تاہم دلی میں امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باوچر نے پاکستان کی تصدیق تعریف کی ہے۔ تاہم ساتھ میں واضح کیا کہ ابھی مزید بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔

تاہم بعض تجزیہ نگاروں کی جانب سے محمود درانی کی برطرفی کو صدر اور وزیر اعظم کے درمیان مبینہ اختلافات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ تاہم وزیر اعظم کے قریبی ذرائع ایسے کسی اختلاف سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی تو ہر اہم بات پر صدر سے پہلے مشورہ کرنے کی بات کرتے ہیں تو وہ کیسے صدر سے ’پنگا‘ لے سکتے ہیں۔

ایوان صدر نے بھی برطرفی سے اتفاق کا اظہار کیا ہے۔ پھر صدر کو شاید اس سے اچھے تابعدار وزیر اعظم نہیں مل سکتے۔ لیکن ماضی پر اگر نظر ڈالیں تو ایک طاقتور صدر اور بااختیار وزیر اعظم کی کم ہی دوستی زیادہ چل پائی ہے۔ لیکن فل الحال کسی اختلاف کے اشارے کم ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ چند روز میں اس تاثر کو دور کرنے کی کوشش دونوں رہنماؤں کی جانب سے کی جائے گی۔

میڈیا، پولیس کردار
پولیس اور میڈیا کا رویہ ایک جیسا
ممبئی سیاح کیمیجنگ ضروری نہیں
’پاکستان کو سبق سکھانا لازم مگر جنگ کے بغیر‘
ممبئیبھارتی خفیہ ایجنسیاں
پورا نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے
چاند پر اور زمین پر
انڈیا کے لیے سن دو ہزار آٹھ کیسا رہا؟
اسی بارے میں
’صدر کی مشاورت شامل تھی‘
08 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد