قبائلی علاقوں میں کشیدگی کے بارہ ماہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں اور ضلع سوات میں اس سال بھی موت کا کھیل اپنی نئی شدت کے ساتھ جاری رہا اور اس میں بظاہر کوئی کمی نہیں بلکہ وسعت ہی دیکھی گئی ہے۔ اس علاقے کے بارے میں یہاں تک کہا جانے لگا کہ جو روم کی حیثیت عیسائیوں کے لیے ہے وہی اہمیت قبائلی علاقوں کی دہشت گردوں کے لیے ہے۔ قبائلی علاقے اس برس امریکی فوج کے ساتھ ساتھ مغربی ذرائع ابلاغ کی بھی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ کئی امریکی اہلکاروں کے مطابق مغربی ممالک، افغانستان میں جنگ اس وقت تک نہیں جیت سکتے جب تک وہ اسے قبائلی علاقوں تک نہ پھیلا دیں۔ قبائلی علاقوں میں جنگ کا آغاز ویسے تو دو ہزار ایک میں ہی ہوگیا تھا تاہم اس جنگ کو بظاہر جاسوس طیاروں کے ذریعے لڑنے کی ذمہ داری اپنے ہاتھوں میں امریکی فوجیوں نے پہلی مرتبہ اس برس لی ہے۔ باجوڑ اور مہمند میں اگر پاکستانی سکیورٹی فورسز مقامی طالبان کے ساتھ برسرپیکار رہیں تو جنوبی و شمالی وزیرستان میں مبینہ شدت پسندوں پر نظر امریکی جاسوس طیاروں نے نہ صرف رکھی بلکہ ماضی سے زیادہ جان لیوا حملے بھی کیے۔ یہ حملے جو پہلے کبھی کبھار ہوا کرتے تھے اختتام سال تک ایک معمول بن چکے ہیں۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا یہ بیان کہ نو منتخب امریکی صدر باراک اوباما کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ حملے رک جائیں گے تنقید کا سبب بنا۔ پیپلز پارٹی شیرپاؤ جیسی سیاسی جماعتیں اس سے متفق نہیں۔ سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کہتے ہیں کہ امریکی پالیسیاں افراد کے گرد نہیں گھومتیں۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا نئے صدر کے آنے تک امریکہ کو قبائلی علاقوں میں فری ہینڈ دے دیا گیا ہے۔ دوسری جانب صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں گزشتہ برس شروع کی گئی کارروائی چودہ ماہ بعد آج بھی جاری ہے۔ لڑائی، حملے اور ہلاکتیں وہاں کا معمول بن چکی ہیں۔ سوات کی معیشت کا اہم ستون سیاحت ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے۔ اب اس علاقے کا رخ سیاح نہیں بلکہ مصیبتیں اور مشکلات کرتی ہیں۔ ایک ہوٹل کے منیجر ظہیرالدین نے گزشتہ دنوں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حالات کا موازنہ دو ہزار سات سے کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ برس سے سیاحت پر بُرے اثرات پڑنا شروع ہوگئے تھے تاہم یہ برس تباہ کن ثابت ہوا۔
’یہاں آنے والوں کو سترا چوکیوں سے تلاشی کے بعد گزرنا پڑتا ہے لہذا ایک گھنٹے کا راستہ تین چار گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے۔ پھر فضا گٹ کے پُرفضا مقام پر تمام ہوٹل سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں‘۔ اس جنت نظیر علاقے میں صوبے میں حکمراں جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بھی شدت پسندوں کا خصوصی نشانہ بنے رہے۔ جماعت کے سربراہ اسفندیار ولی خان بھی اپنے گاؤں میں ایک خودکش حملے میں بال بال بچے۔ اگر اس برس سوات میں کوئی نئی بات ہوئی ہے تو وہاں قومی لشکروں کی شکل میں نئے کھلاڑیوں کا میدان میں اترنا ہے۔ لشکروں اور طالبان کے درمیان لڑائی میں کئی اہم قبائلی رہنما مارے جاچکے ہیں اور کشیدگی ابھی تک برقرار ہے۔ تاہم مشیر داخلہ رحمان ملک ان لشکروں کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کی حمایت اور مدد کرتے ہیں۔ ’یہ ہماری ہی ایک کوشش ہے جس میں ہم ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔‘ اس لشکر کشی میں کہیں دشمنیاں تو نہیں نبھائی جانے لگیں گی اس بارے میں رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اسی لیے حکومت ملک نظام کو بحال اور مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ’مقامی لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ کون دشمن ہے اور کون نہیں‘۔ امریکہ نے بھی ان لشکروں کی حمایت کی تھی جن کی افادیت ابھی دیکھنا باقی ہے تاہم بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ لشکروں کی آمد سے خانہ جنگی کی سی صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ اس تمام مارا ماری سے جو عوام پچھلے کئی برس بھی بری طرح متاثر رہے ان کے مسائل مزید بڑھے ہیں کم نہیں ہوئے۔ لڑائی کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور لاکھوں متاثرہ افراد آج بھی پشاور اور دیگر شہروں میں قائم عارضی خیمہ بستیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ تاہم باجوڑ کے ہی ایک اور پناہ گزین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب حکومت سے ناراض ہیں۔ ’ہم نہ افغان ہیں نہ کسی اور ملک سے ہم سب پاکستانی ہیں۔ مشرف کا دور تو ختم ہوچکا اب تو حکومت جنگ بند کر دے‘۔ جنگ جلد بند ہونے کا تو امکان نہیں لیکن شدت پسندوں نے سوات میں ڈیڑھ سو سے زائد سکولوں کو تباہ کرنے کے بعد اب پشاور کا رخ کر رکھا ہے۔ سوات کے شدت پسندوں کے تازہ اعلان کے مطابق لڑکیوں کی تعلیم پر پندرہ جنوری سے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کو ایک خصوصی مہم کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین کے خیال میں شدت پسند جان بوجھ کر ملک کو تاریک دور میں دھکیلنا چاہیے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے علاوہ امریکی میزائل حملوں کا انتقام بھی طالبان، پشاور میں اتحادی افواج کے سامان رسد کو نشانہ بنا کر لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پشاور سے افغان اور ایرانی سفیروں کو اغواء کیا گیا ہے۔ چین اور پولینڈ کے شہریوں کے علاوہ بڑی تعداد میں مقامی لوگ اغوا ہوچکے ہیں۔ تاہم اورکزئی ایجنسی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما اور بیت اللہ کے قریبی ساتھی حکیم اللہ محسود نے گزشتہ دنوں ان اغوا کی وارداتوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اغوا کے ان واقعات کی وجہ سے ان کی جو بدنامی ہو رہی ہے تو وہ اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں گے۔
سوات اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندی اپنی انتہائی حدیں چھو رہی ہے۔ روایتی اور مقدس جرگوں کو بھی خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ گلے کاٹنے کے عمل کے علاوہ مُردوں کو بھی قبر سے نکال کر سرعام لٹکایا گیا۔ اس بارے میں سابق سفارتکار اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایاز وزیر کہتے ہیں کے اس کی اجازت نہ اسلام اور نہ ہی پختون معاشرہ دیتا ہے۔ اس جنگ اور یلغار کی بندش کا خواہاں تو ہر شہری ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ حکومتوں کی سمجھ میں نہیں آ رہا۔ اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے نتیجے میں نئی حکومت جو امیدیں اور توقعات لے کر وجود میں آئی وہ کوئی وسیع البنیاد حل دینے کی بجائے پہلے سیاسی و معاشی اور اب بھارت سے کشیدگی جیسے مسائل میں ہی الجھی ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم نئی حکومت سے قبائلی علاقوں کے طالبان کیا توقعات کر رہے تھے۔ ان کی سوچ کی ترجمانی اس برس مئی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود نے ایک اخباری کانفرنس میں کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان جماعتوں نے اپنے فیصلے خود کیئے تو حالات بہتر ہوسکتے ہیں ورنہ نہیں۔ بیت اللہ محسود نے جن کی ہلاکت کی افواہیں بھی اس برس سامنے آئیں، تمام تر ذمہ داری تو حکومت پر ڈال دی لیکن جہاں حکومت نے امن معاہدے کیے شدت پسندوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ان معاہدوں کو دوبارہ منظم ہونے اور دوسرے علاقوں میں پھیلنے کے لیے استعمال کیا۔ وزیرستان اور باجوڑ کے بعد مہمند، درہ آدم خیل، ہنگو اور اورکزئی شدت پسندی سے متاثرہ علاقوں کی فہرست میں باضابطہ طور پر اسی سال شامل کر دیئے گئے۔ ایسے حالات میں حکومت کو شدت پسندی پر قابو پانے کے لیے ماضی کی طرح پھر فوجی کارروائیوں کا سہارا لینا پڑا۔ خیبر ایجنسی میں بھی شدت پسندوں کے مختلف دھڑے اس برس بھی سرگرم رہے۔ حکومت اور منگل باغ کے لشکر اسلام کے درمیان کشیدگی رہی اور پشاور تک کو خطرہ پیدا ہوگیا جس کے بعد باڑہ میں کارروائی کی گئی تاہم منگل باغ نے مزاحمت کی بجائے علاقہ خالی کرنے پر اتفاق کیا۔ تاہم منگل باغ آج بھی اس بات پر مصر ہیں کہ اگر سرحد حکومت نے عوام کے مسائل حل نہ کیے تو وہ خود ایسا کریں گے۔ ’عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے کہا تھا کہ وہ لوگوں کی بات سنے گی اور ان کے مسائل حل کرے گی۔ ان لوگوں کے جائز مسئلے ہیں لہذا وزیر اعلی صاحب کو چاہیے کہ وہ ان کی بات سنیں۔ لیکن اگر یہ لوگ لشکر اسلام سے مدد مانگیں گے تو ہم ان کی جہاں تک ہو سکا مدد کریں گے‘۔ فوجی کارروائی کے خاتمے پر آج بھی لشکر اسلام علاقے میں سرگرم ہے۔ انہوں نے اپنی عدالتیں قائم کی ہیں اور لوگوں کو سرعام سزائیں بھی دی جا رہی ہیں۔ خیبر ایجنسی میں ایک حملے میں بال بال بچ جانے والے مقامی رکن قومی اسمبلی پیر نور الحق قادری بھی اس سال کو بدترین قرار دیتے ہیں۔ ’ختم ہونے والا سال بہت بھاری سال ثابت ہوا۔ روز بہ روز ہماری مشکلات بڑھتی ہی جاتی رہیں۔ فاٹا کے عوام کے لیے یہ سال طوفان اور بلا سے کم نہیں تھا۔‘ لاہور میں ایف آئی اے کے دفتر اور اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل دہشت گردی کا نشانہ بنے اور بےنظیر بھٹو کی طرح حکومت نے ان کے تانے بانے بھی قبائلی علاقوں سے جوڑے۔ اپنے آپ کو شدید دباؤ میں پاتے ہوئے حکومت نے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بھی طلب کیا تاکہ قومی اتفاق رائے سے کوئی حل سامنے آسکے۔ کئی روز کے بند کمرہ اجلاس اور بریفنگز کے بعد چودہ نکاتی قرار داد سامنے آئی۔ اس قرار داد پر عمل درآمد کے لیے پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو آج تک اب اپنی تجاویز کو حتمی شکل دے رہی ہے۔
لیکن قرار داد کے بعد کیا تبدیلی آئی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار خان کہتے ہیں کہ جس دن یہ قرار داد آئی اسی دن بھی حملہ ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت کو کہا ہے کہ وہ نہ اپنے آپ کو اور نہ اس قرار داد کو مذاق بنائے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو مذمتی بیانات دینا بند کر دینا چاہیے اگر اس کی امریکہ نہیں سن رہا تو۔ شاید حزب اختلاف کی تجویز حکومت کو پسند آگئی جس نے جنوبی وزیرستان میں گزشتہ دنوں مبینہ امریکی حملے کے بعد حکومت کی جانب سے کوئی مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں شدت پسندی سے لڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ اسے ایک جانب شک ہے کہ شدت پسند اپنے سیاسی ایجنڈے کو طاقت کے ذریعہ مسلط کر کے سیاسی قوت حاصل کرنے کے خواہاں ہیں تو دوسری طرف وہ ان پر دنیا کی واحد جوہری قوت کو کمزور کرنے کی عالمی سازش کا آلہ کار قرار دیتی ہے۔ گورنر سرحد اویس احمد غنی کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا یہ شدت پسند ایک جوہری اسلامی ریاست کو کمزور کرنے والے عناصر کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ تاہم گورنر سرحد قبائلی عوام اور تجزیہ نگاروں کے اس تاثر سے متفق نہیں کہ حالات اس برس خراب ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سال فروری کے بعد سے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ ’وزیرستان خاموش ہے، درہ آدم خیل صاف کر دیا گیا ہے، کرم ایجنسی کا مسئلہ کافی تکلیف کے بعد ختم ہوگیا ہے اور سوات اور باجوڑ میں حالات بہتر ہو رہے ہیں‘۔ سابق صدر پرویز مشرف کی قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد سے متعلق سات برس کی پالیسی کی خامیوں کا اعتراف بھی ان کے جانے کے بعد اب سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (قاف) کے طارق عظیم جیسے سیاستدان بھی کرتے ہیں۔ ’اگر سات برس میں اس پالیسی نے نتائج نہیں دیئے تو اسے جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں‘۔ ماضی کی پالیسیوں کی ناکامی کا اعتراف خود اسے چلانے والے کرنے لگے تو دوسری جانب موجودہ حکومت کی بظاہر نئی حکمت عملی بھی مفید ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ شدت پسندی کا مقابلہ کرنے والے سکیورٹی ادارے تو اس وقت ملک کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں لگی آگ کے جلد بجھنے کے بارے میں زیادہ پرامید دکھائی نہیں دیتے لیکن اگر حکومت کوئی قابل عمل حل تلاش کر پاتی ہے تو شاید حالات بہتر ہوسکیں۔ تاہم افغانستان میں مزید امریکی فوجیوں کی آمد اور مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ کشیدگی قبائلی علاقوں کی جنگ کو ایک نئی سمت دے سکتی ہے۔ سال دو ہزار آٹھ تو اچھا ثابت نہیں ہوا اب ہر کوئی امید سے زیادہ دعا کر رہا ہے کہ آئندہ برس امن کی نوید لے کر آئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||