BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 January, 2009, 13:55 GMT 18:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان اندرونی مسائل پر قابو پائے‘

جنرل پیٹریس
جنرل پیٹریس صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں آرمی چیف جنرل کیانی بھی موجود تھے

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر انچیف جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے ممبئی حملوں کے تناظر میں کہا ہے کے یہ بات تمام متعقلہ ممالک کے مفاد میں ہے کہ پاکستان اپنے اندرونی مسائل حل کرنے میں کامیابی حاصل کرے۔

یہ بات انہوں نے منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں صحافیوں کے ایک گروپ کے سامنے دیے گئے اپنے مختصر بیان میں کہی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی قیادت سے ممبئی حملوں کے بعد کیے گئے اقدامات کے متعلق ان کی تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔

امریکی کمانڈر جو وسطی ایشیائی ریاستوں سے کابل جاتے ہوئے چند گھنٹوں کے لیے اسلام آباد رُکے، اس دوران انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ صدر سے ملاقات میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور وزیراعظم کی ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی موجود رہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق جنرل ڈیوڈ پیٹریس نےکہا ہے کہ امریکہ نے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کہ تحت افغانستان کے لیے امریکی رسد ان ریاستوں سے ممکن ہو گی۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے منگل کے روز کہا کہ رسد کا یہ معاہدہ انہوں نے روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے حالیہ دورے کے دوران کیا ہے۔

واضح رہے کہ جنرل ڈیوڈ پیٹریس روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ایک ہفتے کے دورے کے بعد منگل کو پاکستان پہنچے۔ اور حال ہی میں افغانستان میں بین الاقوامی فوج کی رسد کے قافلے پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

واشنگٹن میں جب نو منتخب صدر باراک اوباما اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے ہیں عین اسی دن امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر انچیف جنرل ڈیوڈ پیٹریس طے شدہ دورے پر پاکستان پہنچے۔

امریکی کمانڈر خطے کی سلامتی اور بالخصوص دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت سے مشاورت کریں گے۔

امریکی کمانڈر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان اور بھارت میں میں کشیدگی پائی جا رہی ہے اور افغانستان میں بین الاقوامی فوج میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جنرل ڈیوڈ پیٹریس پاکستانی قیادت کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے حالات پر بھی بات چیت کریں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں کی وجہ سے پاکستانی عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے نومبر میں کہا تھا کہ وہ میزائل حملوں پر نظرثانی کریں گے تاہم میزائل حملوں میں کمی نہیں ہوئی۔

جنرل ڈیوڈ پیٹریس افغانستان میں فوج میں اضافے کے حق میں ہیں۔ افغانستان میں امریکہ نے تین ہزار فوجی مزید بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

اس بارے میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ دنوں نائب امریکی صدر جوزف بائیڈن سے ملاقات میں ان پر زور دیا تھا کہ امریکہ قبائلی علاقوں میں ’اپرچیونیٹی زونز‘ قائم کرنے کے لیے مدد فراہم کرے۔

باراک اوبامہ کے حوالے سے امریکی اخبار یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ افغانستان میں تیس ہزار کے قریب مزید فوج بھیجیں گے۔ جنرل ڈیوڈ پیٹرس نے گزشتہ برس افغانستان میں مزید فوج کی تعیناتی کی سفارش بھی کی تھی۔ جبکہ یہ بات بھی امریکی اخبارات میں آتی رہی ہے کہ امریکہ کے نو منتخب صدر پاکستان سے متعلق اپنا خصوصی ایلچی بھی مقرر کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد