میزائل حملوں پر پاکستان کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے قبائلی علاقوں میں جمعہ کے روز امریکی طیاروں کی طرف سے کیے گئے میزائل حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اپنے اس بیان کو دُہرایا ہے کہ پاکستانی علاقوں میں امریکی حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ سنیچر کو پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کے ساتھ ملاقات میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس طرح کے حملوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون متاثر ہو سکتا ہے۔ پاکستانی صدر نے اس عزم کو دہرایا کہ قبائلی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا حق صرف پاکستانی اداروں کو ہی ہے۔ اُنہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ نئی امریکی انتظامیہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کی بمباری رکوائے گی۔ پاکستانی صدر نے امریکی سفیر پر واضح کیا کہ امریکی طیاروں کے حملوں کی وجہ سے موجودہ حکومت پر شدید دباؤ ہے جبکہ پارلیمینٹ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک مشترکہ قرارداد بھی پاس کر چکی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سر زمین پر امریکی یا نیٹو فورسز کی طرف سے کیے جانے والے حملے ملک کی سالمیت پر حملے تصور کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ وزیرستان کے علاقے میں امریکی طیاروں کے میزائل حملوں میں چار غیر ملکیوں سمیت بارہ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے امریکی سفیر پر واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کثیرالجہتی پالیسیوں پر عملددرآمد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اُن شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے جو ہتھیار پھینک کر حکومت کی عملداری کو تسلیم کر رہے ہیں۔ حکومت کا دعوٰی ہے کہ ایسی ہی کثیر الجہتی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ اُدھر پاکستان نے نئی امریکی انتظامیہ کی طرف سے حراستی مرکز گوانتنامو بے بند کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اخلاقی مدد ملے گی۔ سنیچر کو دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حراستی مرکز کی بندش قانون کی حکمرانی کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ بیان میں اس اُمید کا اظہار کیا گیا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ دنیا کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے نئی اور جامع حکمت عملی تیار کرے گی۔ واضح رہے کہ امریکہ میں ہونے والے نائن الیون کے واقع کے بعد سابق صدر جارج بش نے کیوبا میں حراستی مرکز قائم کیا تھا اور اس حراستی مرکز میں دہشت گردی میں ملوث افراد کو رکھا جاتا تھا۔ اس وقت اس حراستی مرکز میں ابھی بھی چھ پاکستانی باشندے قید ہیں۔ اس سے پہلے یہ تعداد 63 تھی لیکن حکومت کی طرف سے ان افراد کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں کی بدولت 57 پاکستانیوں کو اس حراستی مرکز سے رہا کردیا گیا۔ گوانتاناموبے حراستی مرکز کو خود امریکہ سمیت دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور اس حراستی مرکز میں کسی بھی قیدی کو قانونی سزا نہیں دی گئی۔ | اسی بارے میں حیدرآباد :زرداری قتل کیس میں بری16 April, 2008 | پاکستان ضروری ہوا تو وزیراعظم: زرداری 19 April, 2008 | پاکستان زرداری کیس: تفتیشی افسر قتل20 April, 2008 | پاکستان ’ججوں کی بحالی معاہدہ کے مطابق‘22 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||