پاکستان کا کردار کلیدی ہے:بائیڈن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے لیے مشترکہ کوششیں درکار ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان کا کردار کلیدی نوعیت کا ہے۔ انہوں نے یہ بات جرمنی کے شہر میونخ میں جاری سکیورٹی کانفرنس میں اپنے خطاب میں کہی۔ اس کانفرنس میں نئی امریکی انتظامیہ کے لیے دنیا کے دیگر اہم ممالک تک اپنا پیغام پہنچانے کا پہلا موقع ملا ہے۔ امریکی نائب صدر نے کہا کہ صدر اوبامہ نے افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے پالیسی پر نظر ثانی کا حکم دیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہاں امریکی اہداف واضح ہوں اور انہیں پورا بھی کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ’میرے خیال میں افغانستان کے حوالے سے کوئی بھی حکمتِ عملی پاکستان کو شامل کیے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ہمیں پاکستانی عوام اور حکومت کے ساتھ اپنے تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے اور قبائلی علاقوں میں استحکام اور ملک بھر میں اقتصادی ترقی اور مواقع پیدا کرنے میں مدد کرنی چاہیے‘۔ جوزف بائیڈن نے کا کہنا تھا کہ ان کا ملک صدر اوبامہ کی قیادت میں دنیا کے لیے بہت کچھ کرے گا اور جواباً وہ اپنے اتحادیوں کی جانب سے مزید اقدامات کا خواہشمند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نئی امریکی انتظامیہ کے نمائندے کے طور پر امریکہ اور دنیا بھر میں بدلنے والے نئے امریکی رویے کا اظہار کرنے یورپ آئے ہیں اور’امریکہ کا عزم ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں سے رابطے میں رہے، ان کی بات سنے اور مشاورت کرے۔ امریکہ کو دنیا کی ایسے ہی ضرورت ہے جیسے کہ دنیا کو امریکہ کی‘۔ جوزف بائیڈن کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ حتی الامکان یہی کوشش کرے گا کہ وہ اپنے اتحادیوں سے مل کر کام کرے اور اسی صورت میں اپنے طور پر کارروائی کرے جب کوئی اور راستہ نہ بچا ہو۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو اور روس کو بھی القاعدہ اور طالبان کو شکست دینے کے عمل میں تعاون کرنا چاہیے۔ خیال رہے کہ بائیڈن نے یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جب بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ اطالوی حکومت نے افغانستان میں مزید آٹھ سو فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان فوجیوں کی تعیناتی کے بعد افغانستان میں تعینات اطالوی فوجیوں کی تعداد دو ہزار آٹھ سو ہو جائے گی۔ مشرقِ وسطٰی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ’مستقبل قریب میں ہمیں غزہ میں جنگ بندی کو مزید مستحکم بنانا ہو گا، مصر اور دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر سمگلنگ روک کر اور بین الاقوامی امداد اور تعمیر نو کے منصوبے کے ذریعے جو کہ فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط بنائے گی، نا کہ حماس کو۔ امریکہ، یورپ اور عرب اتحادیوں کے درمیان تعاون کے بغیر ان میں سے کوئی بھی ہدف پورا نہیں کیا جا سکتا‘۔ تقریر میں جوزف بائیڈن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہماری انتظامیہ ایران پر ہماری پالیسی کا جائزہ لے رہی ہے لیکن یہ واضح ہے کہ ہمیں مذاکرات کرنے پر راضی ہونا ہوگا۔ ہم ایران سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں اور انہیں یہ پیشکش کریں گے کہ اگر تو وہ اسے راستے پر چلتے رہے تو انہیں مزید دباؤ اور تنہائی کا سامنا ہوگا لیکن اگر وہ اپنا غیر قانونی جوہری پروگرام اور دہشت گردی کی حمایت چھوڑ دیتے ہیں تو انہیں ترغیبات دی جائیں گی‘۔ اس سے قبل اسی کانفرنس کے دوران ایران اور روس کے رہنماؤں نے امریکہ کی نئی انتظامیہ کے ساتھ بہتر تعلقات کا اشارہ دیا تھا۔ ایران کے ایک اہم اہلکار علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطی کے لیے خصوصی ایلچی بھیجنے کے اوباما کے فیصلے کو تہران ایک مثبت قدم سمجھتا ہے جبکہ روس کے ایک وزیر کا کہنا تھا کہ اب جوہری عدم پھیلاؤ کی سمت آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے۔ | اسی بارے میں امریکہ سے بہتر تعلقات کا اشارہ07 February, 2009 | آس پاس ’دنیا پر پاکستان کا اثر منفی‘06 February, 2009 | آس پاس امریکی فوجی اڈہ بند کرنے کا فیصلہ04 February, 2009 | آس پاس پاکستان، افغانستان کے لیے ایلچی مقرر22 January, 2009 | آس پاس ’پاکستانی قبائلی علاقےاب محفوظ پناہ گاہیں نہیں ‘12 January, 2009 | آس پاس برطانوی بینک پر بھاری جرمانہ10 January, 2009 | آس پاس ’امریکی مسلمانوں کے دشمن نہیں‘27 January, 2009 | آس پاس شیعہ گروپوں کی حمایت میں کمی15 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||