برطانوی بینک پر بھاری جرمانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی بینک لائڈز ٹی ایس بی نے رقومات کے ٹرانسفر میں امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کے سلسلے میں بطور جرمانہ ساڑھے تین سو ملین ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی وزارت انصاف کے مطابق لائڈز ٹی ایس بی نے یہ مان لیا ہےکہ اس نے قانون شکنی کی تھی اور یہ کہ تفتیش ختم کیے جانے کے عوض وہ یہ رقم ادا کرنے کو تیار ہے۔ استغاثہ کے مطابق بینک نے فرضی دستاویزات تیار کی تھیں تاکہ ایران، لیبیا اور سوڈان کے تاجر امریکی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کر سکیں۔ بینک نے کہا کہ اس نے دوران تفتیش پورا تعاون فراہم کیا۔ ایک بیان میں بینک نے کہا کہ وہ پوری ایمانداری اور تمام ضابطوں کی پاسداری کرتے ہوئے کاروبار کرتا ہے اور اس نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے ہیں کہ ایسی خلاف ورزی دبارہ نہ ہونے پائے۔ امریکی استغاثہ کے مطابق بینک نے انیس سو پچانوے اور دو ہزار سات کے درمیان یہ خلاف ورزیاں کیں۔ نائب اٹارنی جنرل میتھیو فریڈرک نے کہا کہ’ بارہ سال سے زیادہ عرصے تک لائڈز نے ان ممالک سے سیکڑوں ارب ڈالر کی امریکہ منتقلی کو ممکن بنایا جن پر امریکہ نے اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔‘ عدالت میں پیش کی جانے والی دستاویزات کے مطابق بینک فنڈز ٹرانسفر کرتے وقت بھیجنے والے کا نام، بینک کا نام اور پتہ ہٹا دیتا تھا تاکہ امریکی اہلکاروں کو شبہہ نہ ہو۔ اس طرح بینک نے ساڑھے تین سو ملین ڈالر ٹرانسفر کیے۔ بینک اس بات پر تیار ہوگیا ہے کہ یہ پوری رقم ضبط کر لی جائے۔ اس کے عوض بینک کے خلاف تفتیش ختم کر دی جائے گی۔ امریکہ اپنی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی بنیاد پر بعض ملکوں، اداروں یا مخصوص افراد کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگاتا ہے جن کی وجہ سے وہ امریکہ کے بینکاری نظام سے کٹ جاتے ہیں۔ اس نے لیبیا کے خلاف پابندیاں دو ہزار چار میں ہٹا لی تھیں لیکن ایران اور سوڈان کے خلاف اقتصادی پابندیاں جاری ہیں۔ | اسی بارے میں ایران: مذاکرات ناکام، مزید پابندیاں01 December, 2007 | آس پاس جوہری تنازعہ:ایران پر مزید پابندیاں04 March, 2008 | آس پاس ایران، ہاوئیر سولانا سے بات چیت04 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||