BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران، ہاوئیر سولانا سے بات چیت
 ایران کے صدر احمدی نژاد
ایران اپنے جوہری پروگرام سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹےا
ایران کے جوہری پروگرام کے چیف مذاکرات کار سعید جلالی نے فون پر یوروپی یونین کے خارجہ پالیسی کےسربراہ ہاوئیر سولانا سے بات چیت کی ہے۔

مغربی ممالک نے ایران کو ایک امدادی پیکیج پیش کیا تھا اور اسے امداد پر موقف پیش کرنے کے لیے چودہ روز کاوقت دیا تھا۔ سعید جلالی اور ہاوئیر سولانا کے درمیان یہ بات چيت اس معیاد کے خاتمے کے دو روز بعد ہوئي ہے۔

لیکن ابھی کسی طرف سے بھی اس بات کا اشارہ نہیں ملا ہے کہ ایران نے اس پیکج کے متعلق کوئی جواب دیا ہے یا خود اس نے کوئی متبادل پیکج کی پیشکش کی ہے۔

مغربی ممالک نے جوہری پروگرام روکنے کے لیے ایران کو کئي طرح کے امدادی پیکج کی پیشکش کی ہے لیکن ایران کے صدر امحدی نژاد یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹےگا تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ایران مغرب کے ساتھ بات چیت کے لیے سنجیدہ ہے۔

اس سے پہلے ایرانی فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ فوج نے ایک ایسے نئے ہتھیار کا تجربہ کیا ہے جو ایران کے ساحل سے تین سو کلو میٹر دوری تک مار کرسکتا ہے۔ لیکن اس براے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں تھیں۔

اتوار کے روز ٹیلی ویژن پر ایک خطاب کے دوران ایرانی صدر نے مغربی ممالک کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کی کوششوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا۔

تہران میں ایرانی صدر نے کہا تھا: ’ہم مذاکرات میں سنجیدہ ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ مذاکرات قانون پر مبنی ہوں تاکہ ان کے قابل عمل نتائج نکلیں۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’ہم سجھتے ہیں کہ دوسرا فریق بھی سنجیدہ ہو۔‘

صدر احمدی نژاد شام کے صدر بشر الاسد کے ساتھ دو روزہ ملاقاتوں کے بعد ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ بشر الاسد نے پہلے مغرب کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرینگے تاکہ ایٹمی تنازعے کو حل کیا جاسکے۔

پریس کانفرنس کے دوران بشر الاسد نے کہا تھا: ’میں ثالث یا ایلچی نہیں ہوں۔ اور نہ ہی کسی مغربی اہلکار نے مجھے کوئی پیغام پہنچانے کو کہا تھا۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر کے ساتھ ایٹمی تنازعے پر بات ہوئی ہے لیکن انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔

انیس جولائی کو ایران کو اس کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈیل کی کی پیشکش کی گئی تھی اور اس سلسلے میں جواب دینے کے لیے اسے چودہ دن کی مہلت دی گئی تھی جو اب ختم ہوگئی ہے۔

سنیچر کو جرمنی کے وزیرِ خارجہ فرینک والٹر سٹینمائر نے ایران کو ایک مرتبہ پھر متنبہ کیا تھا کہ وہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈیل کی بین الاقوامی پیشکش کا ’واضح جواب‘ دے اور وقت ضائع کرنے سے گریز کرے۔

فرینک والٹر سٹینمائر نے ایک جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’میں ایک بار پھر ایران سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ وقت ضائع کرنا ترک کر دیں اور ہماری پیشکش کا ایسا جواب دیں جس پر عمل کیا جا سکے۔‘

اس پر آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کسی ڈیڈ لائن پر اتفاق نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ’ ہم نے دو ہفتے کی کسی ڈیڈ لائن پر اتفاق یا بات نہیں کی تھی‘۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل تین مرحلوں میں ایران پر پابندیاں عائد کر چکی ہے اور امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے حالیہ پیشکش قبول نہ کی تو چوتھے مرحلے کی پابندیاں بھی لگا دی جائیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد