امریکہ ایران سے بات چیت پر آمادہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکومت نے اپنی دیرینہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جوہری تنازعہ پر جاری بین الاقوامی برادری کے مذارکرات میں موجود رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ کے سینیئر سفارتکار ولیم برنس سنیچر کو جنیوا میں ایرانی مذاکرات کار سعید جلیلی اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاویر سولانا کی ملاقات میں شریک رہیں گے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے امریکی ذارئع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مسٹر برنس ’ صرف سنیں گے، الگ سے کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔‘
ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست بات چیت شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔ اگرچہ امریکہ ان چھ ممالک میں شامل ہے جو ایران کو جوہری پروگرام ترک کرنے پر مائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن اس کا موقف رہا ہے کہ جب تک ایران یورینیم کی افزودگی بند نہیں کرتا، وہ براہ راست بات چیت میں حصہ نہیں لے گا۔ اس پیکج کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ اور باقی پانچ ممالک کے وزرا خارجہ کی جانب سے ایران کو ایک خط بھی دیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر وہ یورینیم کی افزودگی روک دے تو اس کے خلاف عائد اقتصادی پابندیوں میں عارضی نرمی کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران نے لمبی دوری تک مار کرنے والے میزائلوں کا تجربہ کیا تھا جس کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان لفظوں کی جنگ چھڑ گئی تھی۔ ایران اس تازہ ترین پیش کش پر یورپی یونین کے ذریعہ اپنا جواب دے چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی بند نہیں کرے گا لیکن امید کی جارہی ہے کہ وہ سنیچر کی بات چیت میں اپنے موقف میں نرمی کرسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں ’ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے‘03 June, 2008 | آس پاس یورینیم، افزودگی نہیں رکے گی: ایران14 June, 2008 | آس پاس شادی کر لو نہیں تو نوکری چلے جائے گی11 June, 2008 | آس پاس ’ایران پرحملہ ہوا تو استعفیٰ دوں گا‘21 June, 2008 | آس پاس اسرائیل کا حملہ ناممکن: ایران22 June, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||