BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 June, 2008, 10:55 GMT 15:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل کا حملہ ناممکن: ایران
اسرائیلی طیارہ
اسرائیل نے اس مشق کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے
ایران نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اس کی جوہری سہولیات پرفوجی حملہ ناممکن ہے۔ ایران کے ایک فوجی ترجمان غلام حسین الہام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنے کی بات نا ممکن ہے۔

ایران کی جانب سے یہ بیان امریکہ کے ذرائع ابلاغ میں اس خبر کے شائع ہونے کے بعد آیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے ایران پر حملے کے لیے پیشگی مشق کی ہے۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی رپورٹ میں امریکی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ جون کے پہلے ہفتے میں سو سے زيادہ فوجی طیاروں نے بحیرۂ روم اور یونان کی فضائی حدود میں مشق میں حصہ لیا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن ہے لیکن اسرائیل ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کی ترقی کو ایک خطرہ قرار دیتا ہے۔

ایران نے اقوام متحدہ کی جانب سے یورینیم کی افژودگی روکنے کی بات منظور نہیں کی ہے۔

اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی سے متعلق شعبے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البردعی نے کہا ہے کہ اسرائیل اگر ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایران جلد سے جلد جوہری ہتھیار بنانے پر مجبور ہوگا اور اس سے پورا خطہ ایک آگ کے گولے میں تبدیل ہوجائے گا۔

العریبیہ ٹیلی ویژن کو دیئے گئے ایک انٹریو میں البردعی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف اگر کوئی بھی جنگی فیصلہ کیا گيا تو ان کے لیے آئی اے ای اے کے سربراہ کے عہدے پر رہنا مشکل ہوجائے گا۔

اقوام متحدہ نے اس برس مارچ ميں ایران پر تیسری مرتبہ پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اخبارات میں امریکی اہلکاروں کے حوالے سے کہا گيا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے کی گئی مشق یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کسی حد تک سنجیدہ ہے اور وہ اس سے اکیلے ہی نمٹنا چاہتا ہے۔

مشق میں ایسے ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا جنہيں پائلٹوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ان ہیلی کاپٹروں اور ایندھن بھرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے ٹینکروں نے 1400 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا۔ یہ فاصلہ اسرائیل اور ایران کے اہم یورینیم کی افزودگی کے پلانٹ کے درمیان کے فاصلے کے برابر ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل نے اس مشق کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اسرائیل افواج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ فضائیہ وقتاً فوقتاً مختلف مشنوں سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اس قسم کی تربیت دیتی رہتی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ ایران نیم فوجی دستوں کے لیے چھ عالمی طاقتوں سے بات چیت کررہا ہے۔ بات چيت اس شرط پر ہورہی ہیں کہ اگر ایران کو نیم فوجی دستے چاہیں تو اسے چھ ہفتوں تک افژودگی کے معیار کو موجودہ سطح پر روکنا ہوگا۔

گزشتہ ہفتے تحران میں ایک میٹنگ میں یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ خاویر سولانا نے اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممبران امریکہ، چين، روس، فرانس اور برطانیہ اور جرمنی کی جانب سے یہ مسودہ ایران کے سامنے رکھا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ چھ کے چھ کے ممالک اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ایران کا سول جوہری پروگرام حاصل کرنا اس کا حق ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد