’ایران کو دو ہفتے کی مہلت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری تنازعہ کے حوالے سے تعاون یا تصادم میں سے کوئی ایک راستہ اختیار کرلے۔ جنیوا میں ہونے والے ان مذاکرات میں امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے نمائندوں نے ایران سے کہا ہے کہ اگر وہ یورینیم کی افزودگی روک دے تو اس کے بدلے اسے کسی قسم کی نئی پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو روکنے کے حوالے سے کسی قسم کی گارنٹی نہیں دی جس پر ان ممالک کے نمائندوں نے تہران کو جواب دینے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔ ایران کے جوہری تنازعے پر ہونے والے مذاکرات میں ایران اور امریکہ کے درمیان یہ پہلی براہ راست بات چیت ہے۔ جنیوا میں ہونے والے ان مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی اعلٰی امریکی اہلکار ولیم برنز کر رہے تھے لیکن انہوں نے اس حوالے سےکھلے عام اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا۔ تاہم اس حوالے سے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان سان مکارمک نے واشنگٹن سے سخت الفاظ میں ایک بیان جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ ایرانی عوام اس بات کو سمجھیں گے کہ ان کے قائدین کو تعاون اور تصادم میں سے ایک راستہ اختیار کرنا ہوگا تعاون وہ ہے جس سے سب کو فائدہ ہوگا جبکہ تصادم کی راہ خود کو تنہا کرنے کے سوا کچھ نہیں‘۔ مسٹر مکارمک نے مزید کہا کہ مسٹر برنز نے ایک ’واضح اور سادہ پیغام دیا ہے کہ واشنگٹن امدادی پیکیج کے بارے میں سنجیدہ ہے لیکن بات چیت صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ایران اپنی طرف سے اقدامات روک دے۔ سفارت کاروں کو امید ہے کہ ایران مغرب کی طرف سے ایٹمی پروگرام روکنے کے حوالے سے کچھ شرائط مان لے گا اور اس کے بدلے میں تہران پر عائد نئی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاویئر سولانا نے صحافیوں کو بتایا کہ’ اگر چہ یہ مذاکرات کافی تعمیری رہے تاہم ہمیں اپنے سوال کا جواب نہیں ملا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ ہمیں حوصلہ افزاء جواب ملے گا اور ہمیں امید ہے کہ ایسا دو ہفتوں میں ہوجائے گا‘۔ مسٹر سولانا نے کہا کہ وہ ایران کی جانب سے اعلٰی مذاکرات کار سعید جلیلی کے ساتھ آئندہ دو ہفتوں میں ٹیلی فون پردوبارہ بات چیت یا براراست ملاقات پر متفق ہوئے ہیں۔ تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لینی کا کہنا ہے کہ ایران اس پیشکش میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن یہ بات واضح نہیں کہ اس پر قائدین میں اختلاف ہے یا ایران کچھ وقت تک ٹال مٹول سے کام لینا چاہتا ہے۔ ایران کے اعلٰی مذاکرات کار سعید جلیلی کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے کافی مثبت آئیڈیاز پیش کیے ہیں اور مغربی قوتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات سے پیچھے نہ ہٹیں‘۔ لیکن ان مذاکرات کی کامیابی کے لیےایران کی سنجیدگی پراس وقت شبہ کیا گیا جب ایرانی وفد کے ایک رکن نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے لیے یورینیم کی افزودگی روکنے کا’سوال ہی نہیں پیدا ہوتا‘۔ ایران کا یہ موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس کا جوہری ہتھیاروں کے حصول کا کوئی اردادہ نہیں۔لیکن ایران یورینیم کی افزودگی روکنے پر تیار نہیں جو کہ اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کے مطالبے کے خلاف ہے۔ | اسی بارے میں ایران، امریکہ براہ راست مذاکرات19 July, 2008 | آس پاس مثبت بات چیت کے خواہاں ہیں: ایران18 July, 2008 | آس پاس امریکہ کی شرکت مثبت قدم: ایران18 July, 2008 | آس پاس ایران امریکہ تعلقات میں بہتری کے آثار17 July, 2008 | آس پاس امریکہ ایران سے بات چیت پر آمادہ16 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||