BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 July, 2008, 06:31 GMT 11:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران، امریکہ براہ راست مذاکرات
امریکی اہلکار ولیم برنز
امریکی اہلکار ولیم برنز
ایران کے جوہری تنازعے پر مغربی ممالک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایران اور امریکہ کے درمیان پہلی بار براہ راست بات چیت جنیوا میں ہو رہی ہے۔

سنیچر کو ہونے والی اس بات چیت میں امریکہ کی نمائندگی اعلیٰ امریکی اہلکار ولیم برنز کر رہے ہیں جبکہ ایران کی جانب سے اعلیٰ مذاکرات کار سعید جلیلی اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاویئر سولانا بھی مذاکرات میں شامل ہیں۔

جنیوا مذاکرات پر سعید جلیلی نے محتاط انداز میں امید کا اظہار کیا ہے۔ مذاکرات میں شرکت کے لیے روانہ ہونے سے قبل تہران میں سعید جلیلی نے کہا کہ وہ ’تعمیری بات چیت‘ کی امید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’اگر یہ تعمیری طور سے ہوتے ہیں۔۔۔ یقینا ہم تعمیری مذاکرات کریں گے۔‘

سعید جلیلی ہاویئر سولانا کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے عوض میں مغربی ممالک کا امدادی پیکیج زیر غور ہوگا۔ مغربی ممالک کے جواب میں ایران نے بھی اپنا پیکیج تیار کیا ہے جس پر بات چیت ہوگی۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق سعید جلیلی نے کہا: ’ان مذاکرات میں ہم دونوں پیکجز پر مشترکہ نکات اور مذاکرات جاری رکھنے کے بارے میں فریقین کی آراء کا بھی جائزہ لیں گے۔‘

 امریکہ نے ماضی میں ایرانی حکام کے ساتھ ایٹمی تنازعے پر براہ راست بات چیت نہیں کی ہے۔ تاہم حال ہی میں امریکی حکومت نے اپنی دیرینہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جوہری تنازعہ پر جاری بین الاقوامی برادری کے مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔

جنیوا میں سنیچر کو ہونے والے اجلاس میں مغربی ممالک یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے امدادی پیکیج پر ایران کا موقف کیا ہے اور کیا وہ یورینیم کی افزودگی سے متعلق اپنا پروگرام معطل کرے گا۔

ایران نے امریکہ کی جانب سے اس اجلاس میں شرکت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ دمشق کے دورے پر ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی نے کہا ہے کہ تہران اس اجلاس میں مثبت بات چیت کا خواہاں ہے۔

تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار جون لِن کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران ایٹمی تنازعے کو حل کرنے کے لیے اقدام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قیاس ہے کہ ایران مغرب کی طرف سے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کچھ شرائط مان لے گا اور اس کے بدلے میں تہران پر عائد نئی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

ادھر امریکہ کی جانب سے اجلاس میں شرکت کے اعلان پر فرانسیسی وزیرِ خارجہ برنارڈ کچنر نے ویانا میں کہا ہے کہ ’امریکہ کی شمولیت ایک مثبت قدم ہے اور یہ انتہائی دلچسپ صورتحال ہے کہ ہمارے امریکی دوست اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔‘

امریکہ ان چھ ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ایران کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کو ایٹمی پروگرام کی معطلی سے مشروط کیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے ماضی میں ایرانی حکام کے ساتھ ایٹمی تنازعے پر براہ راست بات چیت نہیں کی ہے۔ تاہم حال ہی میں امریکی حکومت نے اپنی دیرینہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جوہری تنازعہ پر جاری بین الاقوامی برادری کے مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔

اور گزشتہ دنوں برطانوی اخبار گارڈین میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق امریکہ آئندہ ماہ تہران میں اپنا ایک سفارتی دفتر کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگر یہ خبر درست ثابت ہوتی ہے توگزشتہ تیس سال میں یہ پہلا موقع ہو گا کہ کوئی امریکی سفارت کار ایران بھیجا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد