BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیکیج قبول کرلینا چاہیے: ایرانی مشیر
محمود احمدی نژاد(فائل فوٹو)
ایرانی رہنما کہتے ہیں کہ ان کا جوہری پروگرام پُر امن ہے
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنئی کے ایک مشیر نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اسے اپنے جوہری پروگرام پر پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے مغرب کی طرف سے پیش کیا جانے والا مراعاتی پیکیج قبول کر لینا چاہیے۔

ایران کے سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ مغرب کی طرف سے پیش کیے جانے والے مفاہمتی پیکیج کے مطابق ایران اپنے جوہری پروگرام کو مزید آگے نہیں بڑھائے گا جس کے بدلے میں اسے کئی سفارتی اور معاشی مراعات کی پیش کش کی گئی ہے۔

مسٹر ولایتی نے کہا ہے کہ ایران یورپی ملکوں کے بات چیت کر سکتا ہے کیونکہ وہ مذاکرات چاہتے ہیں۔

ایران میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر علی اکبر ولایتی کا مشورہ مان لیا گیا کہ تو یہ ایرانی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہو گی۔

اس سے پہلے امریکی محکمۂ خارجہ نے محکمۂ دفاع کے ایک اہلکار سے منسوب اس خبر پر تنقید کی ہے کہ اگلے چند ماہ میں ایران پر اسرائیلی حملے کا امکان بہت بڑھ گیا ہے۔

محکمۂ دفاع کے ایک نامعلوم اہلکار نے اے بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ حملے کی صورت میں ایران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام اس سطح پر پہنچنے والا ہے جہاں اسرائیل اس پر حملہ کر دے گا۔

’پرامن مقاصد‘
 کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جس طرح کا یورینیم حاصل کر رہا ہےاس سے صرف توانائی حاصل کی جا سکتی ہے
محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے اس بیان کو لا علمی پر مبنی اور غیر شائستہ قرار دیا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’کسی کا ایسے معاملہ پر بات کرنا جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے بہت احمقانہ ہے اور اس پر کھل کر سامنے بھی نہ آنا غیر شائستہ ہے‘۔

محکمۂ دفاع کے اہلکار نے اے بی سی کو بتایا تھا کہ ایک خطرے کی گھنٹی تو اس وقت بجےگی جب ایران کے جوہری پلانٹ میں اتنی یورینیم افزودہ ہو جائے جس سے ایٹم بن سکتا ہو۔ اے بی سی نیوز نے بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق ایران کے اس سطح تک اِس سال کے آخر میں پہنچنے کا امکان ہے۔ نامعلوم دفاعی ماہر کے مطابق دوسری لال نشان وہ ہےجب ایران روس سے ایس اے بیس ساخت کا فضائی دفاعی نظام حاصل کر لے گا۔

جبکہ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جس طرح کا یورینیم حاصل کر رہا ہےاس سے صرف توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد