BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 June, 2008, 14:09 GMT 19:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران پرحملے کی ’پیشگی‘ مشق
اسرائیلی طیارہ
اسرائیل نے اس مشق کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے
امریکی اہلکاروں نے نیویارک ٹائمز اخبار کو بتایا ہے کہ اسرائیل نے ایک مشق کی ہے جو بظاہر ایران کی جوہری سہولیات پر حملہ کرنے کی پیشگی مشق ہے۔

امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جون کے پہلے ہفتے میں سو سے زيادہ فوجی طیاروں نے بحیرہ روم اور یونان کے اوپر مشق میں حصہ لیا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن ہے لیکن اسرائیل ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کی ترقی کو ایک خطرہ قرار دیتا ہے۔

ایران نے اقوام متحدہ کی جانب سے یورینیم کی افزودگی روکنے کی بات منظور نہیں کی ہے۔

تاہم اقوام متحدہ نے اس برس مارچ ميں ایران پر تیسری مرتبہ پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

نیویارک ٹائمز کو بریف کرتے ہوئے امریکی اہلکاروں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے کی گئی مشق یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو لیکر کسی حد تک سنجیدہ ہے اور وہ اس سے اکیلے ہی نمٹنا چاہتا ہے۔

اخبار کے مطابق پینٹاگن کے ایک اہلکار کا کہنا تھا ’وہ ہمیں، یورپ اور ایران کو یہ بات بتانا چاہتے تھے۔‘

مشق میں ایسے ہیلی کاپٹرز نے بھی حصہ لیا جنہيں پائلٹس کی مدد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ان ہیلی کاپٹرز اور ایندھن بھرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے ٹینکرز نے 1400 کلومیٹر سے زیادہ کی دوری طے کی۔ یہ فاصلہ اسرائیل اور ایران کے اہم یورینیئم کی افزودگی کے پلانٹ کے درمیان کے فاصلے کے برابر ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل نے اس مشق کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اسرائیل افواج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ فضائیہ وقتاً فوقتاً مختلف مشنز سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس قسم کی تربیت دیتی رہتی ہے۔

اس سے قبل چار جون کو اسرائیل کے وزير اعظم ایہود اولمرت نے کہا تھا کہ’ایرانی خطرے کو ہر ممکنہ طریقے سے روکنا ضروری ہے‘۔

اسرائیل کے نائب وزیراعظم نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نےجوہری ہتھیاروں کی مبینہ تیاری کا پروگرام جاری رکھا تو اسرائیل ایران پر حملہ کر دے گا۔

1981 میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے عراق کے اوسیراک میں واقع جوہری ری ایکٹر پر حملہ کیا تھا۔

اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس پلانٹ کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اسے اسرائیل کے خلاف استعمال کیا جا سکتا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد