BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 July, 2008, 06:40 GMT 11:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل تک مار کرنے والا میزائل
ایران کا میزائیل تجربہ
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والے شہاب تین کی رینج دو ہزار کلو میٹر ہے
ایران میں پاسدارانِ انقلاب نے شہاب تین نامی ایک ایسے میزائل کا تجربہ کیا ہے جو اسرائیل میں اندر تک مار کر سکتا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والے شہاب تین کی رینج دو ہزار کلو میٹر ہے اور یہ ان نو میزائیلوں میں سے ایک ہے جسے کسی نامعلوم مقام سے فائر کیا گیا۔

ایران اس سے پہلے بھی شہاب تین میزائل کا تجربہ کر چکا ہے لیکن اس پر ایران نے یہ میزائل تجربہ ایک ایسے وقت کیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر پائی جانے والی کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔

امریکہ نے ایران کے میزائل ٹیسٹ کی مذمت کی ہے اور ایران سے کہا ہے کہ وہ اپنا میزائل پروگرام ترک کر دے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان گورڈن جانڈرو نے کہا ہے کہ اگر ایران دنیا کا اعتماد حاصل کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے مزید میزائل ٹیسٹوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔

منگل کے روز امریکی حکومت نے ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق کچھ اداروں اور افراد پر نئی اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ اِن پابندیوں کا اِطلاق اُن اداروں اور افراد پر ہوگا جن کے بارے میں محکمے کو یہ شک ہوگا کہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو فروغ دینے میں شریک ہیں۔

ممنوعہ فہرست میں کئی ایرانی کمپنیوں کے ساتھ ایک ایرانی جوہری سائنسداں محسن فخریزادے مہابادی بھی شامل ہیں۔ نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد امریکی تجارتی اداروں پر ایرانی کپمنیوں اور مذکورہ سائینسداں سے نہ صرف کاروبار کی ممانعت ہوگی بلکہ امریکہ میں موجود ان کے تمام اثاثے بھی منجمد کردیے جائیں گے۔

امریکی پابندیاں دراصل ایران کو یورینیم کی افزودگی سے باز رکھنے کے لیے ہیں۔ ایران اس کو اپنا حق قراردیتا ہے۔

جاپان میں جاری آٹھ صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملکوں کے گروپ جی ایٹ کے اجلاس میں بھی ایران سے یورینیم کی افزودگی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔

امریکہ کی جانب سے اِن پابندیوں کا اعلان ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک مشیر کی جانب سے اُس بیان کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو جواباً اسرائیل کے شہر تل ابیب اور خلیج میاں موجود امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد