ایران امریکہ تعلقات میں بہتری کے آثار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ اگلے مہینے تہران میں اپنا ایک سفارتی دفتر کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ برطانیہ کے اخبار گارڈین میں شائع ہونے والی یہ خبر اگر درست ثابت ہوئی تو گزشتہ تیس سال میں یہ پہلا موقع ہو گا کہ کوئی امریکی سفارت کار ایران بھیجا جائے گا۔ امریکی وزارت خارجہ اس خبر کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہ خبر ایک ایسے موقعے پر سامنے آئی ہے جب ایران کے جوہری پروگرام پر بات کرنے کے لیے امریکہ نے بین الاقوامی گفت و شنید میں اپنا ایک سفارت کار بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی حکومت نے اپنی دیرینہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جوہری تنازعہ پر جاری بین الاقوامی برادری کے مذاکرات میں موجود رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ کے سینیئر سفارتکار ولیم برنس سنیچر کو جنیوا میں ایرانی مذاکرات کار سعید جلیلی اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاویر سولانا کی ملاقات میں شریک رہیں گے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے امریکی ذارئع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مسٹر برنس ’ صرف سنیں گے، الگ سے کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔‘ ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست بات چیت شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔ اگرچہ امریکہ ان چھ ممالک میں شامل ہے جو ایران کو جوہری پروگرام ترک کرنے پر مائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن اس کا موقف رہا ہے کہ جب تک ایران یورینیم کی افزودگی بند نہیں کرتا، وہ براہ راست بات چیت میں حصہ نہیں لے گا۔ جنیوا کے مذاکرات میں ایران مراعات کے اس پیکج پر اپنا موقف واضح کرے گا جو گزشتہ ہفتے سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی نے پیش کیا تھا۔ اس پیکج کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ اور باقی پانچ ممالک کے وزرا خارجہ کی جانب سے ایران کو ایک خط بھی دیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر وہ یورینیم کی افزودگی روک دے تو اس کے خلاف عائد اقتصادی پابندیوں میں عارضی نرمی کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران نے لمبی دوری تک مار کرنے والے میزائلوں کا تجربہ کیا تھا جس کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان لفظوں کی جنگ چھڑ گئی تھی۔ ایران اس تازہ ترین پیش کش پر یورپی یونین کے ذریعہ اپنا جواب دے چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی بند نہیں کرے گا لیکن امید کی جارہی ہے کہ وہ سنیچر کی بات چیت میں اپنے موقف میں نرمی کرسکتا ہے۔ | اسی بارے میں امریکہ ایران سے بات چیت پر آمادہ16 July, 2008 | آس پاس حملہ ہوا تو نشانہ اسرائیل:ایران12 July, 2008 | آس پاس ایران پر مزید اقتصادی پابندی09 July, 2008 | آس پاس شمالی کوریا جوہری معائنے پر تیار12 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||