شمالی کوریا جوہری معائنے پر تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے چھ ملکی مذاکرات میں شرکاء ممالک شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کو بند کرنے کی تصدیق کرنے کی ضرورت پر راضی ہوگئے ہیں۔ چین، امریکہ، روس، جاپان اور شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے مذاکرات کار اس بات پر متفق ہوگئے کہ اکتوبر تک شمالی کوریا اپنی مرکزی ایٹمی تنصیبات کو ناکام بنادے گا۔ اس ایٹمی تنصیب کے بند کرنے سے پہلے شمالی کوریا کو تیل اور معاشی امداد فراہم کی جائے گی۔ دریں اثناء جنوبی کوریا اس بات پر راضی ہوگیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کو مدد جاری کرے گا۔ جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ باک نے جمعہ کے روز پارلیمان کو بتایا کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ براہ راست مذاکرات پھر شروع کر دیں گے۔ جنوبی کوریا کی جانب سے پالیسی میں اہم تبدیلی ہے۔ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو غذائی امداد پہنچانے کے لیے وہ دو طرفہ معاہدوں پر عمل درآمد شروع کردے گا۔ گزشتہ ماہ شمالی کوریا نے اپنے یونگ بیون ایٹمی تنصیب کا کُولِنگ ٹاور توڑ دیا تھا جس سے اس کے اپناایٹمی پروگرام بند کرنے کے عزم کا اندازہ ہوتا ہے۔ ڈیڑھ سال قبل ہونے والے چھ ملکی مذاکرات کے نتیجے میں شمالی کوریا نے اپنا ایٹمی ری ایکٹر ایک سال قبل بند کیا تھا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ میں ہونے والے تازہ مذاکرات میں امریکہ کا اہم مطالبہ تھا کہ شمالی کوریا غیرملکی نگرانوں کو اپنی ایٹمی تنصیب بند کرنے کی تصدیق کرنے دے۔ | اسی بارے میں امریکی اہلکار شمالی کوریا میں 22 April, 2008 | آس پاس شمالی کوریا: ایٹمی تفصیلات فراہم26 June, 2008 | آس پاس شمالی کوریا پرپابندیوں میں کمی27 June, 2008 | آس پاس یورینیم افزودگی باعثِ تشویش: بش06 July, 2008 | آس پاس شمالی کوریا مذاکرات پھر شروع08 July, 2008 | آس پاس ثبوت مہیا کرنے کا مقصد تھا: بش30 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||