یورینیم افزودگی باعثِ تشویش: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ انہیں شمالی کوریا کے یورینیم کی افزودگی کے مبینہ پروگرام اور سکیورٹی کے دیگر مسائل پر تشویش ہے۔ جاپان میں پیر کوجی ایٹ اجلاس سے قبل جاپان کے وزیر اعظم یاسو فکودا کے ساتھ مذاکرات کے بعد صحافیوں سے بات رکتے ہوئے انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ شمالی کوریا نے کچھ خدشات دور کیے ہیں۔ ٹوکیو میں صدر بش نے کہا کہ ’شمالی کوریا نے پلوٹونیم سے متعلق سرگرمیوں کی تفصیلات مہیا کرائی ہیں اور پیونگ یانگ میں اپنے جوہری ریکٹر کے کولنگ ٹاور کو ختم بھی کیا ہے۔یہ ایک مثبت قدم تھا لیکن ابھی کچھ اور اقدامات کرنے باقی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یورینیم کی افزودگی ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر تشویش ہے‘۔ شمالی کوریا نے اپنی جوہری سرگرمیوں کی ایک فہرست کافی تاخیر کے بعد 26 جون کو واشنگٹن کے حوالے کی ہے لیکن اس میں یورینیم کی افزودگی کی کوئی تفصیلات نہیں تھیں۔شمالی کوریا یورینیم کی افزودگی کی تردید کرتا ہے۔ امریکہ کی کمزور ہوتی معیشت کے بارے میں پوچھے جانے پر صدر بش نے کہا کہ ’ہماری معیشت اتنی رفتار سے ترقی نہیں کر رہی جتنا کیا کرتی تھی‘۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مضبوط ڈالر کی پالیسی میں یقین رکھتا ہے اور ان کا یقین ہے کہ ’ہماری معیشت کی طاقت ڈالر میں ظاہر ہوگی‘۔ جی ایٹ ممالک میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، روس اور امریکہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چین، بھارت اور جنوبی افریقہ مبصر ممالک کے طور پر اس میٹنگ میں حصہ لیں گے۔ |
اسی بارے میں تیل قیمتیں: ریکارڈ اضافہ، معمولی کمی23 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||