’افریقہ، ایشیا میں جنگ کا امکان‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی حدت سے عالمی سطح پر کشیدگی بڑھ سکتی ہے جس کے نتیجے میں افریقہ اور ایشیا کے بعض علاقوں میں جنگیں چھڑ سکتی ہیں اور علاقائی شورش پیدا ہوسکتی ہے۔ جنوب ایشیا کے جن ممالک کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے ان میں پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان شامل ہیں جہاں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گلیشیر پگھل رہے ہیں اور لاکھوں لوگوں کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ وارننگ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی جانب سے دی گئی ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی پر بالی میں جاری ایک کانفرنس کے دوران پیش کی جانے اپنی رپورٹ میں ادارے نے کہا کہ مضر گیسوں کا اخراج کم کرنے اور موسم کی تبدیلی کے خطرناک اثرات کا سامنا کرنے کرنے میں غریب ممالک کی مدد کرنے کے لیے سیاسی رہنماؤں کو تیزی سے اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہ تحقیق جرمن اور سوئس ماہرین نے کی ہے جس کے مطابق دنیا میں بڑھی ہوئی گرمی سے جنوبی ایشیا اور افریقہ میں خطرناک جنگیں چھڑ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ان علاقوں کے غیر مستحکم ممالک نہ صرف انتشار کا شکار ہو سکتے ہیں اور آبی اور ارضی وسائل پر کھینچ تان جنگوں کی شکل اختیار کر سکتی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر لوگ اپنے گھر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جاکر بسنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گرمی میں پانچ ڈگری سیلسیس اضافے سے عالمی خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔
اس رپورٹ سے قبل بھی آب و ہوا میں تبدیلی کے سول سوسائٹی پر مضر اثرات کے بارے میں کئی وارننگز جاری کی گئی ہیں لیکن اتنی خطرناک تصویر کسی نے پیش نہیں کی تھی۔ اس میں ان ممکنہ حالات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں جنگیں چھڑ سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر پینے کے پانی کی قلت، اجناس کی پیداوار میں کمی اور طوفانوں اور سیلابوں میں اضافہ۔ اسی دوران برطانیہ میں ایک جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں دو تہائی لوگ اس بات پر یقین نہیں کرتے کہ عالمی رہنما ماحولیات میں تبدیلی کا مسئلہ حل کر پائیں گے۔ بی بی سی کے ماحولیات کے تجزیہ نگار راجر رابن کے مطابق جائزے کے نتائج حیران کن نہیں ہیں کیونکہ انیس سو بانوے میں کیوٹو پروٹوکول کی منظوری کے بعد سے اب تک زہریلی گیسوں کے اخراج بائیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ اور جرمنی کے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اب اس بات کا پچاس فیصد سے بھی کم امکان ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کو دو ڈگری سیلسیس تک محدود رکھا جاسکے گا۔ اگر اس سے زیادہ اضافہ ہوتا ہے تو کروڑوں لوگوں کو پانی کی قلت کا سامنا ہوگا۔ بہر حال، عام خیال یہ ہی ہے کہ بالی میں جاری مذاکرات میں مضر گیسوں کا اخراج کم کرنے کے لیے کوئی نئی تجاویز پیش نہیں کی جائیں گی۔اس کانفرنس میں زیادہ سے زیادہ اس خاکے پر اتفاق ہو سکتا ہے جو آئندہ دو برسوں میں ماحولیات کے تحفظ کے ایک نئے معاہدے کی بنیاد بن سکے۔ |
اسی بارے میں قدرتی آفات: تعداد اور شدت میں اضافہ02 November, 2007 | نیٹ سائنس کامن ویلتھ میں ماحول پر بات24 November, 2007 | نیٹ سائنس قدرتی آفات: تباہی میں چار گنا اضافہ25 November, 2007 | آس پاس بالی میں ماحولیات پر اہم کانفرنس03 December, 2007 | نیٹ سائنس سندر بن اور بنگال کا جادو16 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||