BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 December, 2007, 18:19 GMT 23:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افریقہ، ایشیا میں جنگ کا امکان‘
اجلاس کے دوران مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی حدت سے عالمی سطح پر کشیدگی بڑھ سکتی ہے جس کے نتیجے میں افریقہ اور ایشیا کے بعض علاقوں میں جنگیں چھڑ سکتی ہیں اور علاقائی شورش پیدا ہوسکتی ہے۔

جنوب ایشیا کے جن ممالک کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے ان میں پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان شامل ہیں جہاں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گلیشیر پگھل رہے ہیں اور لاکھوں لوگوں کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ وارننگ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی جانب سے دی گئی ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی پر بالی میں جاری ایک کانفرنس کے دوران پیش کی جانے اپنی رپورٹ میں ادارے نے کہا کہ مضر گیسوں کا اخراج کم کرنے اور موسم کی تبدیلی کے خطرناک اثرات کا سامنا کرنے کرنے میں غریب ممالک کی مدد کرنے کے لیے سیاسی رہنماؤں کو تیزی سے اقدامات کرنے ہوں گے۔

یہ تحقیق جرمن اور سوئس ماہرین نے کی ہے جس کے مطابق دنیا میں بڑھی ہوئی گرمی سے جنوبی ایشیا اور افریقہ میں خطرناک جنگیں چھڑ سکتی ہیں۔

ان کے مطابق ان علاقوں کے غیر مستحکم ممالک نہ صرف انتشار کا شکار ہو سکتے ہیں اور آبی اور ارضی وسائل پر کھینچ تان جنگوں کی شکل اختیار کر سکتی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر لوگ اپنے گھر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جاکر بسنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گرمی میں پانچ ڈگری سیلسیس اضافے سے عالمی خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔

ترقی پذیر ممالک میں قدرتی آفات میں اضافہ ہوگا

اس رپورٹ سے قبل بھی آب و ہوا میں تبدیلی کے سول سوسائٹی پر مضر اثرات کے بارے میں کئی وارننگز جاری کی گئی ہیں لیکن اتنی خطرناک تصویر کسی نے پیش نہیں کی تھی۔

اس میں ان ممکنہ حالات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں جنگیں چھڑ سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر پینے کے پانی کی قلت، اجناس کی پیداوار میں کمی اور طوفانوں اور سیلابوں میں اضافہ۔

اسی دوران برطانیہ میں ایک جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں دو تہائی لوگ اس بات پر یقین نہیں کرتے کہ عالمی رہنما ماحولیات میں تبدیلی کا مسئلہ حل کر پائیں گے۔

بی بی سی کے ماحولیات کے تجزیہ نگار راجر رابن کے مطابق جائزے کے نتائج حیران کن نہیں ہیں کیونکہ انیس سو بانوے میں کیوٹو پروٹوکول کی منظوری کے بعد سے اب تک زہریلی گیسوں کے اخراج بائیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

برطانیہ اور جرمنی کے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اب اس بات کا پچاس فیصد سے بھی کم امکان ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کو دو ڈگری سیلسیس تک محدود رکھا جاسکے گا۔ اگر اس سے زیادہ اضافہ ہوتا ہے تو کروڑوں لوگوں کو پانی کی قلت کا سامنا ہوگا۔

بہر حال، عام خیال یہ ہی ہے کہ بالی میں جاری مذاکرات میں مضر گیسوں کا اخراج کم کرنے کے لیے کوئی نئی تجاویز پیش نہیں کی جائیں گی۔اس کانفرنس میں زیادہ سے زیادہ اس خاکے پر اتفاق ہو سکتا ہے جو آئندہ دو برسوں میں ماحولیات کے تحفظ کے ایک نئے معاہدے کی بنیاد بن سکے۔

پگھلتی برفماحولیاتی تبدیلی
سب سے زیادہ اثر غریبوں پر ہوگا
آلودگیچِین کا منصوبہ
معاشی ترقی اور ماحولیاتی تبدیلی ساتھ ساتھ
مظاہرہعالمی حدت کےاثرات
بھارتی کشمیر میں عالمی حدت کے اثرات نمایاں
اسی بارے میں
کامن ویلتھ میں ماحول پر بات
24 November, 2007 | نیٹ سائنس
سندر بن اور بنگال کا جادو
16 November, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد