قدرتی آفات: تباہی میں چار گنا اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امدادی ایجنسی آکسفیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ بیس برس میں قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی میں چار گناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ آبادی میں اضافے کا مطلب ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب ہونے والی قدرتی آفات سے زیادہ لوگ متاثر ہوں گے۔ آکسفیم کے مطابق موسم میں تبدیلی کے سبب ہونے والے واقعات کے پیچھے عالمی حدت ہے۔رپورٹ کے مطابق ہر سال اس طرح کے اوسطاً پانچ سو واقعات ہو رہے ہیں جبکہ 1980 کی دہائی میں یہ تعداد ایک سو بیس تھی اور اسی دوران آنے والےسیلابوں کی تعداد بھی چھ گنا بڑھ گئی ہے۔ ایجنسی نے موسم میں تبدیلیوں کے سبب چھوٹے اور درمیانے درجے کے واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے جس سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوتے ہیں اور ان واقعات کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر عالمی امداد بھی نہیں ملتی۔ رپورٹ کے مطابق ماحولیات میں تبدیلی ہی ان قدرتی آفات کے لیے ذمہ دار ہے۔ شدید بارشوں کے ساتھ قحط سالی کی وجہ سے تباہ کن سیلاب آتے ہیں۔ آکسفیم کے جان میک گراتھ کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری موسم سے متعلق آفات سے نپٹنے کے لیے تیاری شروع نہیں کرتی تو مستقبل میں ایسی قدرتی آفات پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ |
اسی بارے میں بنگلہ دیش: سمندری طوفان کا خطرہ15 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: ہلاکتیں دو ہزار ہوگئیں18 November, 2007 | آس پاس سمندری طوفان، میکسیکو ہائی الرٹ21 August, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||