BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 November, 2007, 07:30 GMT 12:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قدرتی آفات: تباہی میں چار گنا اضافہ
سیلاب فائل فوٹو
ماحولیات میں تبدیلی ہی ان قدرتی آفات کے لیے ذمہ دار ہے
امدادی ایجنسی آکسفیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ بیس برس میں قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی میں چار گناہ اضافہ ہو گیا ہے۔

ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ آبادی میں اضافے کا مطلب ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب ہونے والی قدرتی آفات سے زیادہ لوگ متاثر ہوں گے۔

آکسفیم کے مطابق موسم میں تبدیلی کے سبب ہونے والے واقعات کے پیچھے عالمی حدت ہے۔رپورٹ کے مطابق ہر سال اس طرح کے اوسطاً پانچ سو واقعات ہو رہے ہیں جبکہ 1980 کی دہائی میں یہ تعداد ایک سو بیس تھی اور اسی دوران آنے والےسیلابوں کی تعداد بھی چھ گنا بڑھ گئی ہے۔

ایجنسی نے موسم میں تبدیلیوں کے سبب چھوٹے اور درمیانے درجے کے واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے جس سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوتے ہیں اور ان واقعات کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر عالمی امداد بھی نہیں ملتی۔

رپورٹ کے مطابق ماحولیات میں تبدیلی ہی ان قدرتی آفات کے لیے ذمہ دار ہے۔ شدید بارشوں کے ساتھ قحط سالی کی وجہ سے تباہ کن سیلاب آتے ہیں۔

آکسفیم کے جان میک گراتھ کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری موسم سے متعلق آفات سے نپٹنے کے لیے تیاری شروع نہیں کرتی تو مستقبل میں ایسی قدرتی آفات پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔

سیلاب زدہسیلاب سے تباہی
متاثرین کوخوراک اور ادویات کی قلت کا سامنا
سیلاب سے تباہ کاریاں
ملک بھر میں سیلاب اور بارش سے نقصانات
ایک اور طوفان
فلپائن میں ایک اور طوفان کا خطرہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد