بنگلہ دیش: سمندری طوفان کا خطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں تیز سمندری طوفان کے خطرے کے پیش نظر مکمل چوکسی برتنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اور مونگلا اور چٹگام کے بڑے بندرگاہوں پر کام روک دیا گیا ہے۔ طوفان خلیج بنگال سے بنگلہ دیش کا رخ کر رہا ہے اور جن علاقوں میں سب سے زیادہ تباہی کا خطرہ ہے، وہاں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔ فوج، کوسٹ گارڈ اور پولیس کے چالیس ہزار سے زیادہ اہلکار ساحلی علاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔ ماہرین موسمیات کے مطابق طوفان آئندہ چند گھنٹوں میں بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائے گا۔ اس دوران دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں گی اور ہندوستان اور برما کے مغربی ساحل پر واقع علاقے بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں عہدیداران کا کہنا ہے کہ ہزاروں خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش میں ماحول میں تبدیلی کے اثر کا جائزہ لینے کے لیے بی بی سی کے ایک پراجیکٹ کے تحت جو کشتی ملک کے بڑے دریاؤں کا سفر کر رہی ہے، اس پر موجود نامہ نگار الیسٹئر لاسن کے مطابق موسم تیزی سے خراب ہو رہا ہے۔ یہ کشتی اسوقت دریائے جمنا میں ڈھاکہ کے قریب موجود ہے۔ عہدیداران کے مطابق بنگلہ دیش میں اب سمندری طوفانوں کی پیشگی وارننگ کا نظام کافی بہتر ہوگیا ہے جس کی وجہ ماضی کے مقابلے میں اب طوفانوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد کافی کم ہو گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس طوفان کے نتیجے میں دو فٹ اونچی لہریں اٹھ سکتی ہیں۔ یہ طوفان اس سال کا سب سے خطرناک بتایا جارہا ہے اور اس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوگی۔ |
اسی بارے میں بنگلہ دیش کے مسائل15 August, 2007 | آس پاس سیلاب جو بھولتا نہیں07 November, 2007 | آس پاس سندھ، بلوچستان میں سمندری طوفان کا خطرہ25 June, 2007 | پاکستان سمندری طوفان، بھارتی کراچی میں29 June, 2007 | پاکستان گلیشیئر پگھلنے سے گاؤں زیرِ آب30 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||