بنگلہ دیش کے مسائل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگست انیس سو سینتالیس میں آزاد جنوبی ایشیا کے خالقوں کے ذہن میں بھی نہیں تھا کہ وہ دو نہیں تین آزاد ریاستوں کے قیام کی بنیاد ڈال رہے ہیں۔ محمد علی جناح کا دو قومی نظریہ تین ریاستوں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے قیام پر منتج ہوا۔ بھارت جہاں سیکولر ملک کے طور پر بنایا گیا، پاکستان کو مذہبی بنیادوں پر استوار کیا تو وہاں بنگلہ دیش کی بنیاد بنگالی بولنے والوں کی قوم پرستی اور ثقافت بنی۔ بنگلہ دیش کے خالقوں کا ایک اور نظریہ بھی تھا جو پاکستان میں جڑ پکڑنے میں ناکام رہا ہے اور وہ ہے جمہوریت۔انیس سو سینتالیس سے لے کر بنگلہ دیش کے قیام تک پاکستان میں جمہوریت جڑ نہیں پکڑ سکی اور اقتدار ایک فوجی حکمران سے دوسرے کے ہاتھوں میں منتقل ہوتا رہا۔ بنگلہ دیش کے قیام کے وقت ہم نے نئے عزم کیے۔انیس سو اکہتر میں آزادی کے بعد سے بنگلہ دیش ایسے مستحکم جہموری ادارے قائم کرنے کی جدوجہد کرتا رہا ہے جو کہ غربت، عالمگیریت، ماحولیاتی تبدیلیوں، کرپشن اور فوجی اور اقتصادی طور پر مستحکم ملکوں کے درمیان ایک چھوٹا اور نیا ملک ہونے کے ناطے جو مسائل درپیش تھے ان کا مقابلہ کر سکیں۔ لیکن اپنے ہمسایہ ملک بھارت کے برعکس بنگلہ دیش میں سیاسی قیادت جمہوریت سے اپنا رشتہ نہیں بنا سکی اور بار بار فوج اقتدار میں آتی رہی۔
سب سے طویل ترین فوجی اقتدار کی مثال جنرل حسین محمد ارشاد کے دور کی تھی جنہوں نے نو سال تک حکومت کی جس نے ملک کے نوخیز جمہوری اداروں کو تباہ کر دیا اور ملک میں کرپشن کی بنیاد ڈالی جس میں اب تک قوم مبتلا ہے۔ عوامی احتجاج اور ہنگاموں کے بعد جنرل حسین محمد ارشاد کو انیس سو اکانوے میں اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا اور اس کے بعد سے اب تک ملک میں تین انتخابات ہو چکے ہیں۔ ان تینوں انتخابات میں لوگوں نے بڑی گرمجوشی سے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور ملک میں نمائندہ پارلیمنٹ وجود میں آئی۔ گو کہ جمہوریت نو عمر ہے اور اس میں سقم بھی ہیں پھر بھی ہم بجا طور پر اس پر فخر کر سکتے ہیں۔ لیکن ہماری جہموریت میں بہت سے قباحتیں ہیں۔ گزشتہ پندرہ سال میں دیکھا گیا ہے کہ حزب اقتدار میں آنے والی جماعت نے حزب اختلاف کو بری طرح کچلنے کی کوشش کی ہے اور جواباً حزب اختلاف نے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کیا ہے اور کئی مرتبہ یہ بائیکاٹ مہینوں تک چلا ہے۔ مزید براں ہمارے سیاسی رہنماؤں کے احتساب کا عمل سست پڑا ہے اور ان کی لالچ، بدعنوانیوں اور کرپشن میں بغیر کسی وقفے کے اضافہ ہوا ہے۔
عوامی لیگ کی قیادت میں انتخابی دھاندلیوں کے خلاف احتجاج کے بعد فوج کی پشت پناہی میں ایک عبوری حکومت قائم ہوئی جس نے بدعنوانیوں سے ملک کو پاک کرکے ملک میں شفاف انتخابات کرانے کا وعدہ کیا۔ گو کہ یہ تبدیلی لانے والے وردیوں میں ملبوس تھے لیکن پھر بھی ہم نے ان کا خیر مقدم کیا کیونکہ اگر وہ نہ آتے تو ملک میں انتخاب کے نام پر ڈرامہ ہوتا۔اور جب انہوں نے ان بدعنوان سیاست دانوں، سرکاری افسران اور کاروباری حضرات کو پکڑنا شروع کیا جو اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے تھے پھر بھی ہم نے ان کی تعریف کی کیونکہ جو لوگوں نظام کی تباہی کا باعث بن رہے تھے ان کا احتساب کیا جا رہا تھا۔ فوجی کی پشت پناہی میں قائم عبوری حکومت اب انتخابی اصلاحات اور بیروکریسی اور اداروں میں اصلاحات کرنے کا بات کر رہی ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کے اندار بھی اصلاحات کرنے کو کہا ہے اور سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کی جانچ پڑتال کر رہی ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اصلاحات کسی جمہوری نظام میں نہیں کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے ان کے ایک لمبے عرصے تک کارگر رہنے کے بارے میں شبہات جنم لے رہے ہیں۔
بصورت دیگر اگر فوج تمام بدعنوان سیاست دانوں کو گرفتار کر لے، اور کالے دھن سے بنائے گئے تمام اثاثے اپنے قبضے میں لے لیے اور اس پیسے سے بنائی گئی تمام عمارتیں گرا دے تو پھر ہمارے جمہوری رہنما کون ہو گے؟ کون بچے گا جس پراعتماد کیا جا سکے؟ صرف وہ فوج جس نے اقتدار پر قبضہ کیا ہے۔ اگر وہ اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے نہیں کرتے تو بنگلہ دیش کی سیاست میں وہ سب سے مضبوط قوت بن کر ابھریں گے۔ اور ایک فاتح فوج جیسا کہ ہمیں تاریخ بتاتی ہے سب سے خطرناک ہوتی ہے۔ اس دوران جس طرح کے ہمیشہ سیاسی اور انتظامی عدم استحکام میں ہوتا آیا ہے غریبوں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش میں آنے والے سیلاب اور طوفان ماضی قریب میں آنے والے سیلابوں اور قدرتی آفات میں سب سے زیادہ بدترین تھے۔کروڑوں کی تعداد میں لوگ اپنے گھروں کی چھتیوں پر پھنس کر رہ گئے جہاں نہ انہیں خوراک، نہ پانی اور نہ کوئی امدادی سامان پہنچایا جا سکا۔ حکومت نے اس بارے میں بہت دعوے کیے ہیں لیکن سب کو معلوم ہے کہ حکومت کے وسائل محدود ہوتے ہیں اور لوگوں تک پہنچنے کے لیے انہیں سیاسی جماعتوں کی تنظیموں کا سہارا لینا پڑا ہے۔ سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کی بنا پر سیاسی جماعتوں کو اپنے ووٹروں تک پہنچنے کی آزادی حاصل نہیں ہے۔ امدادی کام قحط، بیماریوں اور بے گھر افراد کے سیلاب کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ سیلاب سے ہونے والی تباہی ہمیں ایک مرتبہ پھر ایک ایسے ملک میں جہموری اداروں کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے جہاں پر غیر تعلیم یافتہ لوگوں میں جہموری نظام کے چلنے پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ہمیں ایک فعل اور مستحکم جہموری نظام کی ضرورت ہے، بدعنوان سیاست دانوں کو معتبر بنانے کے لیے نہیں بلکہ اس بات کو یقنی بنانے کے لیے کہ حکومت غریب اور امیر سب کے لیے ہوتی ہے اور کام کرتی ہے۔ تہمینہ ڈھاکہ میں انیس سو پچھہتر میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ہاورڈ میں تعلیم حاصل کی جہاں انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ لندن میں رہتی ہیں اور ان کا پہلا ناول ’گولڈن ایج‘ کی اسی سال اشاعت ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں ہزاروں کو وبائی امراض کا سامنا10 August, 2007 | آس پاس متاثرین کوبیماریوں کا خطرہ:اقوام متحدہ07 August, 2007 | آس پاس سیلاب کم لیکن امداد میں مشکلات06 August, 2007 | آس پاس سیلاب: کروڑوں امداد کے منتظر05 August, 2007 | آس پاس شیخ حسینہ کو گرفتار کر لیا گیا16 July, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: بدترین بارشیں، 79 ہلاک11 June, 2007 | آس پاس شیخ حسینہ کاحکومت پرمقدمہ29 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||