شیخ حسینہ کاحکومت پرمقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں زیرحراست سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے ملک کی عبوری حکومت کی جانب سےہنگامی قوانین کے استعمال کو عدالت میں چیلنج کیا ہے ۔ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کو فوج کی پشت پناہی حاصل ہےاور شیخ حسینہ کے وکلاء نےان کے خلاف رقوم ہتھیانے کے مقدمے میں حکومت کی جانب سے ہنگامی قوانین کے استعمال کے خلاف ہائی کورٹ میں یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔ شیخ حسینہ کو اس ماہ کے آغاز میں حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں ڈھاکہ میں پارلیمان کے احاطے میں ایک گھر میں نظر بند کیا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والے چھاپے کے بعد عمل میں آئی جس میں ہزاروں پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔ ان پر بنگلہ دیش میں بجلی گھر قائم کرنے کے خواہش مند ایک تاجر سے رقوم ہتھیانے کا الزام ہے۔ پولیس ماضی میں کہتی رہی ہے کہ شیخ حسینہ پر انیس سو چھیانوے اور دو ہزار ایک کے دوران رقوم ہتھیانے کے الزامات ہیں۔ حکومت نے ان کے ملک سے باہر جانے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ | اسی بارے میں شیخ حسینہ کو گرفتار کر لیا گیا16 July, 2007 | آس پاس ’جیل قبول ہے جلاوطنی نہیں‘22 April, 2007 | آس پاس حسینہ واجد ڈھاکہ پہنچ گئیں07 May, 2007 | آس پاس ڈکٹیٹر شپ نہیں مانتے: شیخ حسینہ21 April, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: تین رہنما گرفتار28 May, 2007 | آس پاس ’بنگلہ دیش پاکستان نہیں ہے‘23 April, 2007 | آس پاس شیخ حسینہ کے خلاف قتل کا مقدمہ11 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||