BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش: تین رہنما گرفتار
عبدالجلیل کے ساتھی کہتے ہیں کہ وہ کرپٹ نہیں ہیں
بنگلہ دیش میں انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت ملک کی دو بڑی جماعتوں کے تین مزید سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

عبدالجلیل کو جو عوامی لیگ کے سکیرٹری جنرل ہیں، کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے دفتر میں تھے۔

بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے لطف الزمان بابر اور ایم اے ہاشم کو ان کی رہائش گاہوں سے حراست میں لیا گیا ہے۔

جنوری میں ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد سے اب تک ایک سو ساٹھ سے زیادہ نمایاں حیثیت کے حامل سیاست دانوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ہنگامی حالت کا نفاذ فوج کی حمایت یافتہ اس نگراں انتظامیہ نے کیا تھا جو جنوری میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات معطل کر چکی ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انتخابات اگلے برس کے آخر میں ہوں گے تاکہ ملک میں کرپشن کی وباء سے نمٹا جا سکے۔

حارث چودھری کو تین برس قید کی سز سنائی گئی

عوامی لیگ کی قائد شیخ حسینہ نے گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ لوگ ہمارے علم کے مطابق کبھی بھی کرپشن میں ملوث نہیں رہے۔‘

لطف الزمان بابر سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء کے دور میں وزیرِ داخلہ تھے۔ انہیں اور ایم اے ہاشم کو دارالحکومت ڈھاکہ کے گلشن کے علاقے سے حراست کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے خالدہ ضیاء حکومت کے ایک اہم ترین رکن حارث چودھری کو تین برس جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔ حارث چودھری کے بارے میں انسدادِ بدعنوانی کی عدالت نے جسے نگراں انتظامیہ نے قائم کیا تھا، سزا سنائی۔ یہ سزا ان کی غیر موجودگی میں سنائی گئی کیونکہ حارث چودھری چھپے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد