ڈھاکہ میں ہڑتال اور پرتشدد مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں اپوزیشن کی جانب سے سڑکوں، ریلوے اور بندرگاہوں کی تین روزہ ناکہ بندی کے اعلان کے بعد ہونے والے مظاہروں میں پولیس نے پتھراؤ کرنے والے مظاہرین پر ربر کی گولیاں چلائی ہیں۔ مقامی ذارئع ابلاغ کے مطابق ان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ڈھاکہ پولیس کا ایک سب انسپکٹر کنکن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’مظاہرین نے پولیس پر شدید پتھراؤ کیا جس کے بعد ہمارے افسروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ربر کی گولیاں استعمال کیں‘۔ ڈھاکہ شہر میں فوج کو بھی تعینات کیا گیا ہے جبکہ ہڑتال کی وجہ سے شہر میں کاروبارِ زندگی معطل ہے، سکول بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ تین روزہ ناکہ بندی کا اعلان ان سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی جانب سے کیا گیا ہے جو کہ اس ماہ ہونے والے انتخابات کا انعقاد رکوانا چاہتے ہیں۔ عوامی لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ بائیس جنوری کو ہونے والے الیکشن کا بائیکاٹ کریں گی کیونکہ وہ شفاف اور منصفانہ نہیں ہوں گے۔
اپوزیشن کے ترجمان عبدالجلیل کا کہنا تھا’ ہمیں یہ انتخابات قبول نہیں اور اگر حکومت انتخابات کے انعقاد کے فیصلے پر قائم رہی تو ہم ملک کو کئی ہفتے کے لیے بند کر دیں گے‘۔ تاہم بنگلہ دیش کے نگران صدر ایاز الدین احمد کا کہنا ہے کہ الیکشن مقررہ تاریخ کو ہی ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق انتخابات نوے دن کے اندر ہونا چاہئیں اور ایسا ہی ہو گا۔ بنگلہ دیش میں بی این پی کی حکومت نے نگران حکومت کو اقتدار اکتوبر میں سونپا تھا۔ ڈھاکہ میں بی بی سی کے نمائندے جان سڈورتھ کے مطابق ملک میں جاری آئینی بحران کا اثر اب سڑکوں پر دکھائی دینے لگا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج ڈھاکہ میں گشت کر رہی ہے اور اس بات سے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ اس مرتبہ پھر مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات پیش آ سکتے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق پولیس نے دارالحکومت میں کچھ افراد پر لاٹھی چارج بھی کیا ہے جس سے ماحول میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔ یاد رہے کہ الیکشن کے معاملے پر چلانے والی گزشتہ تحریک کے دوران ملک بھر میں تیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ادھر عوامی لیگ کا دعوٰی ہے کہ اس کے ایک ہزار کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ جماعت مطالبہ کر رہی ہے کہ انتخابات کے لیےگزشتہ چند برسوں میں تیار کردہ انتخابی فہرستوں کی بجائے سنہ 2000 میں تیار کردہ فہرستیں استعمال کی جائیں۔ عوامی لیگ کی مخالف جماعتوں کا کہنا ہے کہ اسے شکست دکھائی دے رہی ہے اور اسی وجہ سے وہ انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔ | اسی بارے میں جنرل ارشاد کی خود سپردگی کا حکم05 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: عام انتخابات اسی ماہ04 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: انتخابات کا بائیکاٹ03 January, 2007 | آس پاس ڈھاکہ میں ہڑتال، احتجاجی مظاہرے21 December, 2006 | آس پاس فوج بلانے پر چار وزراء مستعفی11 December, 2006 | آس پاس ڈھاکہ سمیت تمام شہروں میں فوج 10 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||