ڈھاکہ سمیت تمام شہروں میں فوج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ سمیت ملک کے تمام شہروں میں آئندہ انتخابات کے دوران امنِ و اماں قائم رکھنے کے لیے فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ بنگلہ دیشی وزارتِ داخلہ کی طرف سے ہفتے کو رات گئے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ اگلے ماہ ہونے والے انتخابات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ فوج کو تعینات کرنے کی ہدایت عبوری حکومت کے صدر ایازالدین احمد کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔ ایک اور سرکاری حکم نامے میں صدراتی محل کے قریب مظاہروں، جلسے اور جلسوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پولیس کی طرف سے یہ پابندی ہفتے کو ملک میں عوامی لیگ کے مظاہروں کے بعد لگائی گئی ہے۔
عوامی لیگ انتخابات سے پہلے کچھ انتظامی تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہی ہے جو اس کے خیال میں انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ عوامی لیگ نےانتخابی فہرستوں پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں اور اس کے خیال میں یہ فہرستیں پرانی ہو گئی ہیں۔ عوامی لیگ نے الزام لگایا ہے کہ الیکش کمیشن کے چند ارکان کا جھکاؤ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی طرف ہے۔ گزشتہ ہفتے الیکشن کمیشن نے ملک میں سیاسی کشمکش کی وجہ سے جنوری کی اکیس تاریخ کو ہونے والے انتخابات کو دو دن کے لیے مؤخر کر دیا تھا۔ خالدہ ضیاء نے اٹھائیس اکتوبر کو اپنے پانچ سالہ دور کے اختتام پر اقتدار عبوری انتظامیہ کے سپرد کر دیا تھا۔ خالدہ ضیا کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد ہونے والے ہنگامہ میں چوالیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کے آئین کے تحت عبوری حکومت نوے دن کے اندر انتخابات کرانے کی پابند ہے۔ | اسی بارے میں ہڑتال: بنگلہ دیش میں ٹریفک جام03 December, 2006 | آس پاس چیف الیکشن کمشنر ’جانے‘ پر آمادہ23 November, 2006 | آس پاس صدر ہی نگران سربراہ بنیں گے 28 October, 2006 | آس پاس سیاسی بحران حل کرنے کی کوششیں28 October, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش میں بجلی کا بحران08 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||