ہڑتال: بنگلہ دیش میں ٹریفک جام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیاسی اتحاد پر مبنی جماعتوں کی درخواست پر پورے بنگلہ دیش میں دوکانیں بند اور ٹرانسپورٹ کا نظام معطل ہو کر رہ گیا۔ عوامی لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ عبوری حکومت کا سربراہ صدر اعجازالدین کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ ہڑتال روکنے کے لیے اعجازالدین احمد نے ان سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے مذاکرات کیے جو ناکام ہو گئے۔ رواں مہینے میں یہ تیسری دفعہ ہے کہ ٹرانسپورٹ کا نظام معطل ہوا ہے۔ ڈھاکہ میں ہڑتال شروع ہوتے ہی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ پولیس کے مطابق بیس ہزار لوگ سڑکوں پر تھے۔ ہفتے کا پہلا دن ہونے کے باوجود سکول، دفاتر اور دوکانیں بند تھیں اور سڑک پر کوئی کار دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ عوامی لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات تسلیم ہونے تک یہ ہڑتال جاری رہے گی۔ ان کے مطالبات میں الیکشن کمشنر کو ان کے عہدے سے ہٹانا بھی شامل ہے کیونکہ ان کے خیال میں یہ غیر جانبدار نہیں اور اسی لیے انتخابات کے نتائج پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ وہ اعجازالدین احمد کو بھی ان کے عہدے سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ اعجازالدین احمد اکتوبر میں تشکیل پانے والی عبوری حکومت کے نتیجے میں اقتدار میں آئے تھے اور اب یہ ان کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ وقت پر انتخابات کروائیں۔ جبکہ عوامی لیگ کا کہنا ہے کہ وہ جانبدار ہیں کیونکہ ان کی ہمدردیاں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ساتھ ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ اور بی این پی کی رہنما خالدہ ضیاء سے ملاقات کی مگر کسی نتیجے پر پہنچے بغیر یہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے صدرجلد ہی اپنی کابینہ کے ساتھ ایک میٹنگ کریں گے۔ | اسی بارے میں چیف الیکشن کمشنر ’جانے‘ پر آمادہ23 November, 2006 | آس پاس لبنان پر حملوں کے خلاف مظاہرے 21 July, 2006 | آس پاس ڈھاکہ: ہڑتال، پرتشدد مظاہرے 14 June, 2006 | آس پاس ججوں کے قاتلوں کو سزائے موت29 May, 2006 | آس پاس بیمان ائرلائن کا نعرہ حقیقت17 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||