BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 June, 2006, 08:40 GMT 13:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈھاکہ: ہڑتال، پرتشدد مظاہرے
36 گھنٹے طویل ہڑتال کے دوران تمام کاروباری مراکز اور سکول بند رہے
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں حزب اختلاف کی عوامی لیگ پارٹی کی کال پر ہونے والی عام ہڑتال کے دوسرے روز مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

پولیس نے شہر کے مہاکلی اور میرپور کے علاقوں میں حزب مخالف کے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیئے آنسو گیس استعمال کی۔

عوامی لیگ پارٹی کی اپیل پر 36 گھنٹے طویل ہڑتال کے دوران تمام کاروباری مراکز اور سکول بند رہے جبکہ اس سے ملک کی ٹرانسپورٹ بھی متاثر ہوئی ہے۔

حزب اختلاف کا مطالبہ ہے کہ جنوری میں ہونے والے اگلے انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات کی جائیں۔

غیرمنتخب شدہ عبوری انتظامیہ ان انتخابات کی نگرانی کرے گی۔ حزب اختلاف کا اعتراض ہے کہ اس انتظامیہ میں حکومتی حامی بڑی تعداد میں شامل ہوں گے۔

منگل کو ڈھاکہ اور ایک قریبی ضلعے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم میں کم از کم 50 افراد زخمی ہوئے۔

عوامی لیگ کے سینیئر رہنما طفیل احمد نے کہا: ’ہم اپنا جمہوری حق استعمال کرنے کے لیئے یہ مظاہرے کررہے ہیں لیکن حکومت بالکل تحمل کا مظاہرہ نہیں کررہی کیونکہ یہ ایک آمرانہ حکومت ہے۔‘

حکمراں جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی نے مظاہروں کو پرتشدد اور سازشی قرار دیا ہے اور شہریوں سے ہڑتال کے خلاف مزاحمت کرنے کی اپیل کی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوری کے انتخبات سے قبل ملک میں مزید پرتشدد صورتحال کا خدشہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد