BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 May, 2006, 11:21 GMT 16:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش مظاہروں میں ایک ہلاک
مظاہرے
مظاہرین نے 20 گاڑیوں اور دو فیکٹریوں کو نذر آتش کردیا
بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ میں مظاہرین اور پولیس لہ درمیان جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔

یہ شخص پیر کو زخمی ہوے والے ان درجنوں ٹیکسٹائل فیکٹری ملازمین میں شامل تھا جو ٹیکسٹائل انتظامیہ کے خلاف مظاہرے کررہے تھے اور اس دوران پولیس کے ساتھ جھڑپو ں میں زخمی ہوگئے تھے۔

فیکٹری ملازمین کا مطالبہ تھا کہ ان کی تنخواہیں بڑھائی جائیں۔ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین سڑکوں اورگلیوں میں نکل آئے اور انہوں نے دیگر اداروں کے ملازمین سے اپنا ساتھ دینے کی اپیل بھی کی ہے۔

فیکٹری ملازم کی ہلاکت کی اطلاع سے مظاہرین مزید مشتعل ہوگئے جس کے بعد پولیس کے ساتھ ان کی مزید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ مظاہرین نے احتجاج کے دوران قریباً بیس گاڑیاں اور دو فیکٹریاں نذر آتش کردیں۔

بنگلہ دیش کی برآمد کا 75 فیصد ٹیکسٹائل انڈسٹری سے حاصل ہوتاہے جن میں سے بیشتر امریکہ اور یورپی ممالک جاتی ہیں۔ تاہم ٹیکسٹائل فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور دیگر ملازمین کو انتہائی کم تنخواہیں دی جاتی ہیں۔

کچھ ملازمین کو تو ماہانہ صرف 1000 روپے تنخواہ ملتی ہے۔ اس بے انصافی کے خلاف ڈھاکہ بھر میں مظاہرے کیئے جارہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ڈھاکہ میں معاملہ اس وقت سنگین شکل اختیار کرگیا جب ابھی صبح کام کے وقت کا آغاز ہی ہوا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں فیکٹری ملازمین ڈھاکہ میں تجگون کے صنعتی علاقے میں فیکٹریوں سے باہر نکل آئے۔

نامہ نگار کے مطابق ایک بلیڈ بنانے والی فیکٹری پر حملہ بھی کیا گیا اوراسے آگ لگا دی گئی۔

ہلاک ہونے والا فیکٹری ملازم زخمی حالت میں ہسپتال میں لایا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔ پیر کے مظہروں کے دوران اسے گولی لگی تھی۔

پولیس نے ساوار کے علاقے میں مظاہرین پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 50 افراد زخمی ہوئے جن میں چند پولیش اہلکار بھی شامل تھے۔

ملازمین ماضی میں بھی کم اجرتوں اور کام کے دوران سہولیات کی عدم دستیابی کی شکایت کرتے رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کے تجارت کے وزیر نے ٹیکسٹائل صنعت کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے نمائندوں سے پیر کو مذاکرات کیئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد