ججوں کے قاتلوں کو سزائے موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک بنگلہ دیشی عدالت نے دو ججوں کے قتل کے جرم میں دو اسلامی شدت پسند رہنماؤں سمیت سات افراد کو سزائے موت سنائی ہے۔ بنگلہ بھائی کے نام سے معروف صدیق الاسلام اور عبدالرحمان نامی ان دو شدت پسند رہنماؤں کا تعلق ایک کالعدم شدت پسند گروہ سے ہے اور انہیں مارچ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان دونوں رہنماؤں پر الزام تھا کہ وہ گزشتہ برس نومبر میں ایک گاڑی پر بم پھینک کر دو ججوں کو ہلاک کرنے کے واقعے کے’ماسٹر مائنڈ‘ تھے۔ حکام نے اس حملے کا ذمہ دار کالعدم تنظیم جماعت المجاہدین کو قرار دیا تھا۔ سزا سنانے والے جج کا کہنا تھا کہ’ چونکہ اس حملے میں ملزمان کی شمولیت مکمل طور پر ثابت ہو چکی ہے اس لیئے میں انہیں سخت ترین سزا دیتا ہوں‘۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس اگست کے مہینے میں بنگلہ دیش کے چونسٹھ اضلاع میں ایک گھنٹے کے عرصے کے دوران پانچ سو دھماکے ہوئے تھے جن میں تین افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ ان دھماکوں کے بعد مزید بم حملوں میں عدالتوں اور ججوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان دھماکوں کے سلسلے میں جماعت المجاہدین نامی تنطیم کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سو سے زائد مقدمات قائم کیئے گئے تھے۔ بنگلہ دیش کی یہ کالعدم شدت پسند تنظیم ملک میں شریعت کے نفاذ کے لیئے کوشاں ہے۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش مظاہروں میں ایک ہلاک23 May, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش: تصادم میں ’پچاس زخمی‘12 March, 2006 | آس پاس بنگلہ دیشی شدت پسند گرفتار06 March, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش:شدت پسند رہنماگرفتار02 March, 2006 | آس پاس چار شدت پسندوں کو40 سال قید 20 February, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش: دہشت گردی کی سزا موت21 December, 2005 | آس پاس ڈھاکہ: شدت پسند رہنما گرفتار14 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||