بنگلہ دیش میں بجلی کا بحران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کو بجلی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور حکومت اس بحران کا حل تلاش کرنے میں ابھی تک ناکام رہی ہے۔ بنگلہ دیش کے شہر میر پور کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز مغرب کی نماز کے وقت گہری تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ پورا دن کھائے پیئے بغیر گزارنے کے بعد اب انہیں شدید گرمی کا سامنا تھا۔ لوگ نہایت غصے میں گلیوں میں جمع ہو گئے اور توڑ پھوڑ شروع کر دی اور بجلی کے مقامی سٹیشنوں کو آگ لگا دی۔ ناراض مجمعے نے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی کے کنٹرول روم کو بری طرح سے برباد کر دیا یہاں تک کہ سوئچ بھی توڑ ڈالے اور جب پولیس وہاں پہنچی تو ان کی کچھ گاڑیوں کو بھی نہیں چھوڑا اور تباہ کر دیا۔ بنگلہ دیش کو پچھلے کئی مہینوں سے بجلی کی کمی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ حالیہ سال کے شروع میں بجلی کی کمی سے پانی کے پمپ نہ چلنے کے تنازعے پر بیس افراد کو موت کی گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ صرف بڑے شہروں میں کسی حد تک بجلی میسر کی جا رہی ہے مگر ملک کے زیادہ حصے اکثر تاریکی میں ڈوبے رہتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے پاس بجلی بنانے کی سہولت ناکافی ہے اور جتنا خرچ اس سلسلے میں کیا جا رہا ہے وہ صارفین کی بڑھتی تعداد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ بنگلہ دیش میں انتخابات سر پر کھڑے ہیں اور ایسے میں بجلی ایک اہم سیاسی مسئلہ بن کرابھری ہے۔ وزیر مملکت برائے بجلی و پانی اقبال حسن محمود کا اس بحران سے نمٹنے کا منصوبہ تھا مگر اخراجات کی کمی کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو پایا۔ اقبال حسن کے منصوبے کے مطابق سن دو ہزار بیس تک بجلی کے ہدف کو پورا کرنے کے لیئے انیس بلین ڈالر کی ضرورت ہے۔ اقبال حسن اپنے پاور سٹیشن اور نئی ٹرانسمیشن لائنوں کے منصوبے کو پورا کرنے کے لیئے بین الاقوامی امداد کے منتظر ہیں۔ اور ابھی تک صرف چند پیشکشیں سامنے آئی ہیں۔ چار مہینے پہلے اقبال حسن کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کے بعد آنے والے عہدیدار کو بھی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے مگر ابھی تک اس مسئلے کا کوئی حل سامنے نہیں آیا۔ اب حکومت اس مسئلے کا عارضی حل نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کچھ فیکٹریوں کو غیر اہم قرار دے کر خبردار کیا گیا ہے کہ انہیں شام کے بعد بجلی فراہم نہیں کی جائے گی۔ اشتہاری بورڈ اور شاپنگ کے مراکز کو رات کے وقت اپنے جنریٹر استعمال کرنا پڑیں گے۔ جبکہ بجلی کے بحران سے نمٹنے کے دیگر حکومتی احکامات کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ عیدالفطر کی آمد آمد ہے ایسے میں شہر کی اہم شاہراہ پر نصب کردہ ٹی وی کی ایک بہت بڑی سکرین کاروں اور موبائل فونوں کے اشتہار دکھا رہی ہے اور دولت مند دوکانداروں نے اپنی دوکانوں کو بجلی کے قمقموں سے سجا رکھا ہے۔ | اسی بارے میں لبنان پر حملوں کے خلاف مظاہرے 21 July, 2006 | آس پاس ممبئی: تفتیش لشکر سے آگے بڑھ گئی15 July, 2006 | انڈیا ڈھاکہ: ہڑتال، پرتشدد مظاہرے 14 June, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش مظاہروں میں ایک ہلاک23 May, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش:شدت پسند رہنماگرفتار02 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||