سیاسی بحران حل کرنے کی کوششیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے صدر اعجاز الدین احمد نے چاروں اہم سیاسی جماعتوں سے کہا ہے وہ عبوری انتظامیہ کے قیام کے لیے ان سے الگ الگ مذاکرات کریں۔ دوسری طرف دو بڑی جماعتوں، عوامی لیگ اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی، نے کہا ہے کہ وہ ملک میں موجودہ سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے اگلے بارہ گھنٹوں میں نئے عبوری وزیرِ اعظم کے انتخاب کے بارے میں اتفاق کر لیں گی۔ انہوں نے یہ فیصلہ صدر اعجاز الدین احمد کی جانب سے الٹی میٹم کے بعد کیا۔ اگرچہ حزبِ اختلاف نے اس تجویز کو رد کر دیا ہے کہ صدر خود حکومت کا انتظام سنبھال لیں۔ صدر کی مداخلت سے گزشتہ دو دنوں سے جاری تشدد میں کمی آئی ہے جس میں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ سابق چیف جسٹس کے ایم حسن عبوری وزیرِ اعظم کے عہدے کا حلف اٹھانے والے تھے تاکہ جنوری میں ہونے والے انتخابات کی تیاری کروا سکیں۔ لیکن عوامی لیگ کے اس الزام کے بعد کہ ان کی ڈور حکومت کے ہاتھ میں انہوں نے وزیرِ اعظم بننے سے انکار کر دیا۔ عوامی لیگ نے اپنے ہزاروں حمایتی ان کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے سڑکوں پر بھیج دیے۔ دارالحکومت ڈھاکہ میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے۔ اس سے قبل جنوری کے صدراتی انتخابات تک حکومت چلانے کے لیے عبوری انتظامیہ کے حلف اٹھانے کی تقریب ملتوی کر دی گئی تھی اور صدارتی ترجمان نے کہا تھا کہ سابق چیف جسٹس کے ایم حسن جو کہ عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر حلف اٹھانے والے تھے علیل ہو گئے ہیں۔ جمعہ کو سبکدوش ہونے والی وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء کی حکومت کی مدت پوری ہونے سے چند گھنٹے قبل ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور تشدد کے مختلف واقعات میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ خالدہ ضیاء نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ وہ صدر حسن کی حمایت کریں۔
دارالحکومت ڈھاکہ سمیت مختلف شہروں میں حزبِ مخالف کے ہزاروں حامیوں نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی۔ حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ صدر حسن انتخابات میں دھاندلی کروائے گے۔ حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت عوامی لیگ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایم کے حسن کو صدر بنایا گیا تو وہ سڑکوں، ٹرینوں اور ایئرپورٹس پر مظاہرے کر کے ملک میں آمدورفت کا نظام درہم برہم کر دیں گے۔ خالدہ ضیاء نے اپنی حکومت کی مدت پوری ہونے سے پہلے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ آئین کا احترام کریں گی۔
انہوں نے پورے ملک میں امن امان کی اپیل کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں گے۔ ابھی تک دارالحکومت ڈھاکہ میں ہی سو سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ بنگلہ دیش کی سیاست شیخ حسینہ کی عوامی لیگ اور خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے گرد گھومتی ہے اور دونوں سیاسی رہنماؤں میں بڑے عرصے سے ذاتی رنجش چلی آ رہی ہے۔ ان دونوں رہنماؤں نے انیس سو اکیانوے سے لے کر اب تک مختلف ادوار میں اقتدار سنبھالا ہے لیکن سالوں سے آپس میں بات چیت نہیں کی ہے۔ ابھی انتخابات کو تین ماہ سے زائد عرصہ باقی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی خون خرابہ مزید بڑھے گا۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش: اقتدار کی منتقلی ملتوی28 October, 2006 | آس پاس ڈھاکہ: ہڑتال، پرتشدد مظاہرے 14 June, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش مظاہروں میں ایک ہلاک23 May, 2006 | آس پاس یونس اورگرامین کو نوبل انعام13 October, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش میں بائیکاٹ ختم05 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||