BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 January, 2007, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل ارشاد کی خود سپردگی کا حکم
ارشاد کرپشن کے الزامات کے تحت پانچ سال جیل میں گزار چکے ہیں
بنگلہ دیش میں ایک عدالت نے سابق فوجی حکمران جنرل محمد ارشاد کو اس ماہ کے انتخابات سے پہلے سرینڈر کرنے کو کہا ہے۔

عدالت کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ جنرل ارشاد کو سترہ جنوری سے قبل خود کو انتظامیہ کے سپرد کرنا ہوگا۔

جنرل ارشاد پر کرپشن کے الزامات ثابت ہونے کے بعد عدالت نے ان کو بائیس جنوری کے پارلیمانی انتخابات میں شریک ہونے پر پابندی عائد کردی تھی۔ ارشاد کی ذاتیہ پارٹی اپوزیشن اتحاد میں شامل ہے۔

بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے زیرقیادت حزب اختلاف کی جماعتوں نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

جنرل ارشاد نے 1982 کی بغاوت میں اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔ انہیں کرپشن کے کئی الزامات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اب تک پانچ سال جیل میں گزارے ہیں۔

تیسری بڑی جماعت کے رہنما
 جنرل ارشاد پر کرپشن کے الزامات ثابت ہونے کے بعد عدالت نے ان کو بائیس جنوری کے پارلیمانی انتخابات میں شریک ہونے پر پابندی عائد کردی تھی۔ ارشاد کی ذاتیہ پارٹی اپوزیشن اتحاد میں شامل ہے۔
قانون کے تحت یہ انتخابات ایک عبوری انتظامیہ کے تحت منعقد ہونے ہیں لیکن اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات آزادانہ اور غیرجانبدارانہ طور پر نہیں ہوں گے کیوں کہ ملک کی عبوری انتظامیہ کے ایک نئے نگراں صدر کے حوالے نہیں کی گئی۔

ملک کے صدر ایاز الدین ہی نگراں صدر کا کردار ادا کررہے ہیں کیوں کہ سیاسی جماعتیں کسی نگراں رہنما کے نام پر متفق نہیں ہوسکی تھیں۔

حزب اختلاف کا صدر ایاز الدین پر الزام ہے کہ ان کی ہمدردیاں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے ساتھ ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی اصلاحات سے قبل یہ انتخابات غیرجانبدارانہ اور منصفانہ طور پر نہیں ہوسکتے۔

اپوزیشن کی انتخابات کی بائیکاٹ کے اعلان کے باوجود عبوری حکومت اور الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ اس ماہ کے عام انتخابات وقت پر ہی ہوں گے۔

بنگلہ دیش کی سیاست شیخ حسینہ کی عوامی لیگ اور خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے گرد گھومتی ہے اور دونوں سیاسی رہنماؤں میں بڑے عرصے سے ذاتی رنجش چلی آ رہی ہے۔ ان دونوں رہنماؤں نے 1991 سے لے کر اب تک مختلف ادوار میں اقتدار سنبھالا ہے لیکن برسوں سے آپس میں بات چیت نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد