فوج بلانے پر چار وزراء مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں شامل چار وزراء نے جنوری میں ہونے والے انتخابات سے قبل ملک میں فوج کی تعنیاتی کے فیصلے کے خلاف احتجاجاً استعفے دے دیے ہیں۔ حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے جاری احتجاجی مظاہروں کو روکنے کی خاطر بنگلہ دیشی صدر ایازالدین نے سنیچر کو جاری کیے گئے ایک حکم کے ذریعے فوج کو سڑکوں پر گشت کرنے کا کہا تھا۔ حکومت کا کہا ہے کہ فوج بلانے کا فیصلہ لوگوں اور ان کی املاک کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن مستعفی ہونے والے وزراء میں سے شامل سلطانہ کمال کا کہنا ہے کہ صورتحال ایسی ہرگز نہ تھی کہ فوج بلا لی جائے۔ مستعفی ہونے والے باقی تین وزراء کے نام اکبر علی خان، حسن مشہود چوہدری اور شفیع سمیع ہیں۔ تبصرہ نگاروں کے مطابق چار وزراء کا مستعفی ہو جانا موجودہ بنگلہ دیشی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ عوامی لیگ کی قیادت میں متحرک حزب مخالف کی جماعتیں انتخابی طریقہ کار
خالدہ ضیاء نے اٹھائیس اکتوبر کو اپنی حکومت کے پانچ سال پورے ہونے پر اختیارات صدر ایازالدین کی سربراہی میں قائم ایک نگران انتظامیہ کے حوالے کر دیے تھے۔ اختیارات نگران انتظامیہ کے پاس آنے کے بعد ہونے والے ہنگاموں اور مظاہروں میں اب تک چوالیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ بنگلہ دیشی آئین کے تحت نگران عبوری حکومت کو نوے دن کے اندر انتخابات کرانے ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں ڈھاکہ سمیت تمام شہروں میں فوج 10 December, 2006 | آس پاس برطانوی کمپنیاں ’استحصال‘ کر رہی ہیں09 December, 2006 | آس پاس ہڑتال: بنگلہ دیش میں ٹریفک جام03 December, 2006 | آس پاس سیاسی بحران حل کرنے کی کوششیں28 October, 2006 | آس پاس صدر ہی نگران سربراہ بنیں گے 28 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||