ڈھاکہ میں ہڑتال، احتجاجی مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اپوزیشن اتحاد کی ہڑتال کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ڈھاکہ میں سڑکوں پر ٹریفک نہیں ہے اور تمام تجارتی دفاتر و سکول بند ہیں۔ عوامی لیگ کی قیادت میں چودہ جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن محاذ کا مطالبہ ہے کہ مجودہ عارضی حکومت عام انتخابات سے قبل انتخابی عمل میں اصلاحات کو پورا کرے۔ انتخابی کمیشن نےعام انتخابات آئندہ بائیس جنوری کو کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈھاکہ میں ایک سینئر پولیس افسر نصیرالدین نےخبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے سینکڑوں کار کنوں نے پولیس پتر پتھراؤ کیا تو پولیس بھی کارروائی پر مجبور ہوگئی۔ ’ ان پر قابو پانے کے لیے ہم نے آنسو گیس چھوڑی اور ربڑ کی گولیاں چلائیں، مزید تشدد سے بچنے کے لیے علاقوں میں فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔‘ عوامی لیگ پارٹی کی رہنما شیخ حسینہ کا کہنا ہے کہ چونکہ نئی ووٹنگ لسٹ ابھی تیار نہیں ہوئی ہے اس لیے وہ موجودہ انتخابات کے اوقات کو قبول نہیں کریں گی۔ جبکہ مقررہ اوقات کے مطابق اکیس دسمبر پرچہ نامزدگی کے لیے آخری تاریخ ہے۔ عوامی لیگ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے لیے انتخابی کمشنر ایم ایس ذکریا کا رویہ منصفانہ نہیں ہے۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے مطالبے پر نئی ووٹنگ لسٹ تیار کی جار ہی ہے تاکہ انتخابات منصفانہ ہوسکیں۔ | اسی بارے میں ڈھاکہ کا آخری آرمینیائی11.01.2003 | صفحۂ اول ڈھاکہ یونیورسٹی میں کشیدگی28.07.2002 | صفحۂ اول مشرف مخالف ہڑتال30.07.2002 | صفحۂ اول کیا روشنی سے ڈرتے ہو؟17 December, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||