بنگلہ دیش کے انتخابات مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ملک کے انتخابات اگلے تین ماہ تک نہیں منعقد کروائے جاسکتے۔ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ ووٹرز کی رجسٹریشن نئے سرے سے ہونے تک انتخابات سے متعلق تمام سرگرمیان روک دی جائیں۔ یہ حکمنامہ عدالت میں دائر ایک درخواست کے بعد جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ووٹرز کی رجسٹریشن کا عمل ناقص ہے۔ اس ماہ کے آغاز پر عبوری صدر اعجاز الدین احمد اپنے عہدے سے دستبردار ہوگئے تھے اور 22 جنوری کو ہونے والے انتخابات کو موخر کروادیا تھا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سے یہ بھی پوچھا ہے کہ انتخابات کے لیے جنوری کی مجوزہ تاریخ تک ووٹرز لسٹ کیوں اپ ڈیٹ نہیں کی گئی۔
کمیشن نے اس حکمنامے کو چیلنج نہیں کیا ہے۔ انتخابی عمل کے بارے میں ہائی کورٹ میں درخواست ایک شہری قاضی مامون الرشید نے دائر کی تھی۔ ان کی رائے میں تازہ ووٹرز لسٹ کے بغیر ملک میں منصفانہ انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔ گزشتہ ہفتے بنگلہ دیش کی عبوری انتظامیہ کے نئے سربراہ فخر الدین احمد نے عہد کیا تھا کہ بدعنوانی اور تشدد پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ حزب اختلاف کی بڑی جماعت عوامی لیگ پارٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئی علاقوں میں خونریز فسادات میں تبدیل ہوگئے تھے جن میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ | اسی بارے میں ڈھاکہ: ہڑتال، پرتشدد مظاہرے 14 June, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش مظاہروں میں ایک ہلاک23 May, 2006 | آس پاس یونس اورگرامین کو نوبل انعام13 October, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش میں بائیکاٹ ختم05 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||