BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 January, 2007, 07:45 GMT 12:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش: عام انتخابات جلد متوقع
فخرالدین احمد
نئے سربراہ نے جلد از جلد انتخابات کرانے کا وعدہ کیا ہے
بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے نئے سربراہ فخرالدین احمد نے تشدد اور بدعنوانی کے خلاف سخت کاروروائي کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ملک کے جمہوری عمل کو نقصان پہونچتا ہے۔

انہوں نےکہا ہے کہ ملک میں عام انتخابات بھی جلد سے جلد کرائے جائیں گے۔

عبوری حکومت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار ٹیلی ویژن پر قوم سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا ’میری انتظامیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ انتخابات جتنی جلدی ممکن ہوں کرائے جائیں، ہمار کام ایسے انتخابات کرانا ہے جو آزادانہ اور منصفانہ ہوں اور جس میں سبھی لوگ شامل ہوسکیں۔‘

بنگلہ دیش میں اپوزیشن محاذ نے انتخابات سے قبل ووٹوں کی نئی فہرست تیار کرنے اور منصفانہ انتخابات کے مطالبے کے لیے ہڑتالیں کی تھیں جس کے دوران تشدد کے سبب درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ہنگامہ آرائی کے بعد ملک میں ایمرجنسی بھی نافذ کی کر دی گئی تھی اور انتخابات موخر کردیے گئے تھے۔

اس ماہ کے اوائل میں ملک کے صدر ایازالدین احمد عبوری حکومت کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ انہوں نے یہ کہہ کر انتخابات کو موخر کرنے کا اعلان کیا تھا کہ ’انتخابات ممکن نہیں ہیں۔‘ انتخابات اس ماہ کی بائس تاریخ کو ہونے تھے۔

عبوری حکومت کے نئے سربراہ نے کہا ہے کہ پولیس اور فوج بدعنوان افراد کے خلاف سخت کاروائی کرےگی لیکن انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہونے دی جائےگی ۔

ڈھاکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ کا کہنا ہے کہ تشدد آمیز ہڑتالوں اور اس کے بعد ایمرجنسی کے نفاذ سے بنگلہ دیش کی عوام میں غیر یقینی کی صورت حال پیدا ہوگئی تھی لیکن عبوری حکومت کے نئے سربراہ کے عہدہ سنبھالنے سے ایسا لگتا ہے کہ عوام کا اعتماد پھر بحال ہوگیا ہے۔

اپوزیشن جماعت عوامی لیگ نے انتخابات موخر کرنے کے فیصلے کو عوام کی فتخ قرار دیا تھا۔اس کا الزام تھا کہ صدر ایازالدین کی انتظامیہ جانب داری سے کام لے رہی تھی اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کی طرف دار تھی۔

تاہم بی این پی اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد