ایوان صدر کے گھیراؤ کی کوشش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں منگل کو تیسرے روز بھی عبوری حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی کوشش ہے کہ مظاہرین ایوان صدر کا گھیراؤ کرلیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کی اتحاد کا مطالبہ ہے کہ کہ بائیس جنوری کے انتخابات کو ملتوی کیا جائے اور انتخابی فہرستوں کو درست کیا جائے۔ وہ عبوری صدر ایاز الدین احمد پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اور ان کی انتظامیہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی جماعت کی طرفداری کر رہے ہیں۔ ایوان صدر کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایوان صدر کے قریب ہزاروں سپاہی تعینات ہیں اور وہاں جانے والی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عوامی لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کی کوشش ہوگی کہ وہ جلوسوں کی شکل میں ایوان صدر جائیں اور عمارت کا گیھراؤ کر لیں حالانکہ حکام نے ایسے اجتماع پر پابندی لگا دی ہے۔ پیر کو پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا تھا اور انہیں منتشر کرنے کے لیے ربر کی گولیاں فائر کی تھیں اور آنسو گیس کا بھی استعمال کیا تھا۔ | اسی بارے میں ڈھاکہ: ہڑتال اور مظاہرے آس پاس ڈھاکہ: دوسرے روز بھی تشدد جاری رہا08 January, 2007 | آس پاس ڈھاکہ میں ہڑتال اور پرتشدد مظاہرے07 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: عام انتخابات اسی ماہ04 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: انتخابات کا بائیکاٹ03 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||