ڈھاکہ: دوسرے روز بھی تشدد جاری رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے جاری احتجاج کے دوران مظاہرین کومنتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسوگیس استعمال کی اور لاٹھی چارج کیا۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے تین روزہ ہڑتال کے دوران مظاہروں میں کئی افراد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت عوامی لیگ کا مطالبہ ہے کہ اس ماہ ہونے والے عام انتخابات کو ملتوی کیا جائے کیونکہ بقول حزب اختلاف مذکورہ انتخابات میں دھاندلی کا خدشہ ہے۔ بنگلہ دیش کے صدر ایاز الدین احمد نے یہ مطالبہ مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔ دارالحکومت ڈھاکے میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس وقت مظاہریں آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا جب وہ ایوان صدر کے اطراف جمع ہوگئے۔ تاہم نامہ نگار کے مطابق پیر کے روز ہونے والا احتجاج گزشتہ روز کے مقابلے میں کم پرتشدد رہا۔ عینی شاہدین کے مطابق شہر میں عام زندگی مفلوج رہی۔ سڑکوں سے گاڑیاں غائب اور کاروبار بند رہا۔ حزب اختلات کے کارکنوں نے جگہ جگہ ناکے بنا رکھے تھے تاکہ سڑکوں پر کسی طرح کی آمد و رفت نہ ہوسکے۔ بنگلہ دیش میں بائیس جنوری کو عام انتخابات منعقد کروانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ملک کی بڑی اپوزیشن جماعت عوامی لیگ اور اس کے اتحادیوں کا مطالبہ ہے کہ اس ماہ کے آخر میں ہونے والے انتخابات ملتوی کردیئے جائیں۔ انہوں نے حکومت پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ ووٹرز کی نئی فہرستیں استعمال کرنا چاہتی ہے جس کی وجہ سے یہ انتخابات منصفانہ اور شفاف نہیں ہوں گے۔ مظاہروں کی قیادت عوامی لیگ کی سربراہ اور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ایاز الدین انتخابات کے حوالے سے غیر جانب داری کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں اور وہ ان کی مخالف جماعت کی سربراہ بیگم خالدہ ضیاء کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
ان کی جماعت نے منگل کو صدارتی محل کو جانے والے راستوں کو بند کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ حزبِ اختلاف کا اتحاد اس بات کا خواہش مند ہے کہ عبوری حکومت کے سربراہ صدر ایاز الدین احمد مستعفی ہو جائیں لیکن صدر نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اتوار کو صدر کے ایک مشیر نے کہا تھا کہ عبوری انتظامیہ انتخابات کے سلسلے میں جاری تعطل کو دور کرنے کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں سے مذاکرات کرے گی۔ اکتوبر میں خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی کی حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر اقتدار عبوری حکومت کو منتقل کیے جا نے کے بعد پر تشدد واقعات میں اب تک 35 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سابق حکمران جماعت نیشنلسٹ پارٹی کے زیر قیادت سیاسی بلاک نے اپوزیشن پارٹی عوامی لیگ پر شکست کے خطرے کے پیش نظر انتخابات کو ناکام بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ چٹاگانگ میں ملک کی اہم بین الاقوامی تجارتی بندرگاہ کے ڈائریکٹر قمرالاسلام اسسٹنٹ پولیس کمشنر چٹاگانگ کا کہنا ہے کہ صورت حال کو کنٹرول میں رکھنےکے لیے کوئی پانچ ہزار پولیس اور پیرا ملٹری کے اہلکار شہر بھر میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک نے بنگلہ دیش کی بگڑتی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سیاسی عدم استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ |
اسی بارے میں بنگلہ دیش مظاہروں میں ایک ہلاک23 May, 2006 | آس پاس ہڑتال: بنگلہ دیش میں ٹریفک جام03 December, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش: انتخابات کا بائیکاٹ03 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: عام انتخابات اسی ماہ04 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش میں بجلی کا بحران08 October, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش: تصادم میں ’پچاس زخمی‘12 March, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش میں عام ہڑتال24 November, 2005 | آس پاس بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی30 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||