عبوری حکومت کے لیے نئے سربراہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے سینٹرل بینک کے ایک سابق صدر ڈاکٹر فخرالدین احمد نے ملک کی عبوری حکومت کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ بنگلہ دیش کے صدر ایازالدین احمد جمعرات کو عبوری حکومت کی سربراہی سے دستبردار ہوئے تھے تاہم وہ ملک کے صدر رہیں گے۔ صدر ایازالدین احمد نے یہ فیصلہ ملک بھر میں عوامی لیگ کی قیادت میں اتحاد کے احتجاجی مہم کے نتیجہ میں کیا۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا مطالبہ تھا کہ عام انتخابات کو مؤخر کیا جائے اور انتخابی فہرستوں کو درست کیا جائے۔ ان کا الزام تھا کہ صدر ایازالدین خالدہ ضیاء کی جماعت بی این پی کی طرفداری کر رہے تھے اور اسے لیے انہیں بھی عبوری حکومت کی سربراہی چھوڑ دینی چاہیے۔ ڈھاکا میں رات کا کرفیو ختم کر دیا گیا ہے تاہم ملک بھر میں امرجنسی نافذ ہے۔ نئے صدر کی حلف برداری کی تقریب قومی ٹیلی ویژن پر براہ راست دکھائی گئی۔ اس تقریب میں امن کا نوبل انعام جیتنے والے محمد یونس بھی موجود تھے۔ محمد یونس کو بھی عبوری حکومت کی سربراہی کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں اسے رد کر دیا تھا۔ تقریب میں عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ واجد بھی موجود تھیں لیکن بی این پی کی رہنما خالدہ ضیاء موجود نہیں تھی۔ ڈاکٹر فخرالدین احمد سنہ 2001 اور 2006 کے درمیان ملک کے سینٹرل بینک کے سربراہ رہے۔ اس سے پہلے وہ عالمی بینک کے لیے کام کرتے تھے۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش میں عام انتخابات مؤخر 11 January, 2007 | آس پاس ایوان صدر کے گھیراؤ کی کوشش09 January, 2007 | آس پاس ڈھاکہ: دوسرے روز بھی تشدد جاری رہا08 January, 2007 | آس پاس ڈھاکہ میں ہڑتال اور پرتشدد مظاہرے07 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: انتخابات کا بائیکاٹ03 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||