BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 January, 2007, 14:22 GMT 19:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش میں عام انتخابات مؤخر
بنگلہ دیشی فوجی
بگڑتے ہوئے حالات کے پیش نظر ڈھاکہ میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے
بنگلہ دیش کے صدر ایازالدین نے عبوری حکومت کے سربراہ کےعہدے سےاستعفی دے دیا ہے اور عام انتخابات کو مؤخر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

مسٹر ایازالدین صدر کے عہدے پر بر قرار رہیں گے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق صدر نے اپوزیشن جماعتوں کے اس مطالبے کو تسلیم کرلیا ہے کہ عام انتخابات مؤخر کردیے جائیں۔ انتخابات بائیس جنوری کو ہونا طے تھے۔

صدر نے اپنے ایک سینئر مشیر فضل الحق کو عبوری حکومت کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔

اس سے قبل بنگلہ دیش میں سرکاری ٹیلی ویژن نے خبر دی تھی کہ صدر ایاز الدین نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں روزانہ شب کے گیارہ بجے سے صبح پانچ بجے تک کرفیو بھی نافذ رہے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ایاز الدین جمعرات کی شب ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کریں گے۔

بنگلہ دیش کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس کرفیو سے پورے بنگلہ دیش میں ساٹھ سے زائد شہر اور دیہات متاثر ہوں گے۔ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور ہر روز رات کو گیارہ بجے سے صبح پانچ بجے تک ملک میں کرفیو لگا رہے گا۔

بنگلہ دیش میں عام انتخابات اسی ماہ ہونے ہیں لیکن حزب اختلاف نے یہ کہتے ہوئے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے کہ عبوری حکومت سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی طرفدار ہے۔ ملک کے صدر ایاز الدین نے عبوری انتظامیہ سنبھالی ہے کیوں کہ سیاسی جماعتیں کسی بھی عبوری رہنما کے نام پر متفق نہیں ہوسکی تھیں۔

اپوزیشن رہنما حسینہ واجد عبوری انتظامیہ پر خالدہ ضیاء کی جماعت بی این پی کی طرفداری کا الزام لگا رہی ہے۔پچھلے کئی ہفتوں سے جاری اس فسادات میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل اقوام متحدہ اور یورپی یونین کا کہا تھا کہ وہ بنگلہ دیش میں انتخابی مشاہدین کے مشن کو معطل کر رہے ہیں۔ ادھر اقوام متحدہ نے بھی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’بنگلہ دیش میں جاری سیاسی بحران کی وجہ سے وہاں پر انتخابی عمل خطرے میں پڑ گیا ہے۔‘

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے حالات ایسے ہیں کہ وہاں پر منصفانہ ووٹنگ کے لیے صورتحال نہایت خراب ہے اس لیے انتخابی مشاہدین اتوار کی رات کو وہاں سے واپس آ جائیں گے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن منصفانہ نہیں ہوں گے
بائیس جنوری سے شروع ہونے والے عام انتخابات کا اپوزیشن نے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے کیونکہ ان کا الزام ہے کہ یہ پرتعصب ہوں گے۔ کئی ہفتوں سے ملک میں پر تشدد کارروائیاں جاری ہیں۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈوتھ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کا یہ اعلان بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس بات کا اشارہ ہے کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت ان انتخاب کو مؤخر کر دے۔

بنگلہ دیش میں موجود تمام انتخابی مشاہدین سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈھاکہ سے داپس آ جائیں۔ اس کے علاوہ جن ایک سو تیس مزید انتخابی مشاہدین کو بنگلہ دیش پہنچنا تھا وہ بھی اب نہیں جا رہے۔

اقوام متحدہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے اسے ’بنگلہ دیش میں بگڑتی صورتحال پر تشویش ہے‘ اور وہ ان انتخابات کے لیے فراہم کردہ تکنیکی مدد واپس لے رہا ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ فوج غیر جانبدارانہ کردار ادا کرتی رہے گی اور وہ لوگ جو ملک میں قانون کے نفاذ کے ذمہ دار ہیں وہ اس بات کی کوشش کریں کہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے انسانی حقوق کی پاسداری کریں۔

اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے اپنے انتخابی مشاہدین کو واپس بلانے کی تائید کرتے ہوئے واشگنٹن سے جانے والے انتخابی مشاہدین کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔

شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کا اتحاد انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کر رہا ہے کیونکہ کہ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی ریجسٹر نامکمل، غلط اور ان کی مخالف جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی حمایت میں ہے۔ لیکن عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کا قانون انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ یہ الیکشن مؤخر کر دیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد