بنگلہ دیش تباہی کی جانب گامزن؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلامی ممالک میں سے ایک بڑے جمہوری ملک بنگلہ دیش کے حالات افراتفری کی جانب رواں دواں دکھائی دیتے ہیں۔ پرتشدد کارروائیاں، ہڑتالیں اور کاروباری عدم استحکام روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ملک میں کشیدگی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ بنگلہ دیش کو 1970 میں ایک کامیاب ملک قرار دینے کی ماہرین کی آراء غلط ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس امر کے باوجود کہ ملک اپنی معاشی ضروریات کے لیے خودمختار رہا ہے، اب ملک کے ایک ناکام ریاست میں ڈھلنے کے آثار پیدا ہورہے ہیں۔ بنگلہ دیش کا تازہ ترین مسئلہ یہ ہے کہ ملکی کی بڑی سیاسی جماعت عوامی لیگ اور بیشتر 18 چھوٹی جماعتوں نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جو اس ماہ کے اواخر میں منعقد ہونا ہیں۔ عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ کی جانب سے گزشتہ ماہ انتخابات کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد ملک میں تشدد آمیزی بڑھ گئی ہے۔ ملک میں منصفانہ اور شفاف انتخابات کے امکانات پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ دونوں خواتین آپس میں بات تک کرنا پسند نہیں کرتیں۔ اور یہی نفرت ان دونوں جماعتوں کے حامیوں کے درمیان بھی دکھائی دیتی ہے۔ ان تمام حالات کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی معیشت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ جس کے سبب ملک کے ان کروڑوں افراد کو اپنا مستقبل تاریک نظر آریا ہے جو روزانہ مشکل سے 100 روپے کی کمائ کر پاتے ہیں۔
ایس وقت ملک تین روزہ ٹریفک ہڑتال کی زد میں ہے۔ شیخ حسینہ کی ہڑتال کی یہ کال انتخابات میں تاخیر اور انتخابات کے نگراں حکام کو ہٹانے کے مطالبات منوانے کے لیے کی گئی ہے۔ اکتوبر کے اواخر سے اب تک ملک میں عبوری حکومت کے انتظام سنبھالنے کے بعد 40 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ عوامی لیگ نے نہ صرف انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے بلکہ اس طرح منعقد کیے جانے والے انتخابات کے خلاف مزاحمت کا بھی کہا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انتخابات شفاف نہیں ہوں گے۔ اگر اس حالات میں انتخابات ہوئے تو ملک بڑے احتجاجی مظاہروں اور مزید تنازعات میں گھر جائے گا۔ عبری حکومت حالات کوبہتر بنانے میں تو ناکام رہی ہے۔ تاہم اس نے انتخابات اپنے وقت پر کروانے کا عہد کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ ایسے انتخابات قومی اور غیر ملکی سطح پر قابل قبول نہ کیے جائیں۔ عوامی لیگ کا مطالبہ ہے کہ عبوری حکومت کے صدر اعجاز الدین احمد کو مستعفی ہوجانا چاہیے اور تازہ ووٹر لسٹ جاری کی جانی چاہیے۔ ایک تجزیہ کار دیبا پریا بھٹ اچاریہ کے مطابق ایک ممکنہ صورت یہ ہے کہ عبوری حکومت سخت اقدامات کرتے ہوئے انتخابات کروا ہی ڈالے تاہم ایسے انتخابات کے قبول کیے جانے کا امکان کم ہے جس میں کم امیدوار حصہ لے رہے ہوں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ حزب مخالف حکومت پر اتنا دباؤ ڈالے کہ ملک سیاسی طور پر مفلوج ہوجائے اور حکومت کو مجبوراً انتخابات کی نئی تاریخ کا اعلان کرنا پڑے۔ بھٹ اچاریہ کا کہنا ہے کہ ان حالات میں مارشل لاء بھی عمل میں آسکتا ہے۔ عوام ملک کے جمہوری مستقبل کے بارے میں شکوک کا شکار ہوگئے ہیں۔ ماہرین کی رائے میں حالات کی بہتری کے لیے دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان کوئی معاہدہ ہونا ضروری ہے۔ بنگلہ دیش کی 40 فیصد آبادی غربت کی لائن سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے اور جمہوریت کے بغیر ملکی ترقی کا روشن امکان موجود نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں بنگلہ دیش مظاہروں میں ایک ہلاک23 May, 2006 | آس پاس ہڑتال: بنگلہ دیش میں ٹریفک جام03 December, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش: انتخابات کا بائیکاٹ03 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: عام انتخابات اسی ماہ04 January, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش میں بجلی کا بحران08 October, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش: تصادم میں ’پچاس زخمی‘12 March, 2006 | آس پاس بنگلہ دیش میں عام ہڑتال24 November, 2005 | آس پاس بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی30 November, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||